سعودی عرب: خانۂ کعبہ پر حملہ اور جُہیمان بن سیف کا فتنہ

 سعودی عرب: خانۂ کعبہ پر حملہ اور جُہیمان بن سیف کا فتنہ

وہ ایک عام سی صبح تھی—اسی سکون اور روحانی فضا کے ساتھ جو ہمیشہ مکہ مکرمہ کے آسمانوں پر بسی رہتی ہے۔ مگر اچانک ہی اس پرسکون منظر پر ایسا ہولناک سایہ پڑا کہ دل کانپ اٹھے۔ چند لمحوں میں اذان اور تلبیہ کی جگہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ گونجنے لگی، اور احرام میں لپٹے ہوئے لوگ یکایک جنگجوؤں میں بدل گئے۔ خانۂ کعبہ، جہاں کبھی خوف کا کوئی گزر نہ تھا، اس دن ایک محاصرے، چیخوں اور گمشدہ سوالوں کا میدان بن گیا۔

تابوتوں میں چھپی بندوقیں

جُہیمان بن سیف اور اس کے تقریباً 300 تربیت یافتہ ساتھیوں نے حملے کی تیاری انتہائی خفیہ انداز میں کی تھی۔ احراموں کے ساتھ ساتھ تقریباً 50 تابوت مسجدِ الحرام میں جنازے کے نام پر لائے گئے، جن میں میتیں نہیں بلکہ خودکار رائفلیں، بارود، خوراک، پانی اور سینکڑوں راؤنڈ گولیاں چھپائی گئی تھیں۔

محمد بن عبداللہ القحطانی کو مہدی قرار دے کر گروہ نے اپنے ساتھیوں میں ایک مذہبی جوش اور مکمل وفاداری پیدا کی۔ حرم کے اندر یہ تمام سامان اور افراد خاموشی سے پھیل چکے تھے—اور دنیا کی سب سے پرامن جگہ کے اندر آنے والے حملے کی بنیاد مکمل طور پر رکھ دی گئی تھی۔

تکبیر کی آوازوں میں گولیوں کی گونج

فجر کی نماز کے سلام کے فوراً بعد مسجدِ الحرام میں اچانک گولیوں کی چیخ گونجی، اور تکبیر کی آوازوں میں بارود کی تیز بو شامل ہوگئی۔ چند لمحوں میں ہی جُہیمان کا گروہ مکمل طور پر حرکت میں آیا—دروازے بند کر دیے گئے، مناروں پر اسنائپر بیٹھا دیے گئے، اور زیرِ زمین راہداریوں میں مورچے قائم کر لیے گئے۔ صحن میں موجود ہزاروں نمازی سہم کر بھاگنے لگے، اور سعودی حکومت اس اچانک حملے پر صدمے میں ڈوب گئی۔

خبر جیسے ہی باہر پہنچی، پوری مسلم دنیا میں خوف، بے یقینی اور لرزہ خیز خاموشی پھیل گئی: کعبہ کے صحن میں جنگ؟ یہی وہ صبح تھی جس نے مقدس حرم کو پندرہ دن کے خونریز محاصرے میں بدل دیا۔

فرانسیسی ماہرین کی مکہ خفیہ منتقلی

جب محاصرہ کئی دن گزرنے کے باوجود ختم نہ ہوا اور جُہیمان کے مسلح گروہ مسجدِ الحرام کے وسیع تہہ خانوں میں مورچہ زن رہے،

تب سعودی حکومت ایک نہایت خفیہ اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئی۔ حرم کے زیرِ زمین حصے اُس زمانے میں پیچیدہ، تاریک اور بھول بھلیوں جیسے تھے—انہیں صاف جاننے والا صرف جُہیمان کا گروہ تھا۔ سعودی فورسز بار بار حملے کے باوجود آگے نہیں بڑھ پا رہی تھیں، اور ہر گھنٹے کے ساتھ ہلاکتیں بڑھ رہی تھیں۔

اسی دوران پاکستان میں یہ بات تیزی سے پھیلنے لگی کہ سعودی حکومت نے آپریشن کے لیے پاکستان آرمی کو بھی مدد کے لیے بلایا ہے، مگر تاریخی، سعودی، پاکستانی اور فرانسیسی ریکارڈوں میں کہیں بھی کسی پاکستانی فوجی یونٹ کی عملی شرکت کا ذکر موجود نہیں—آپریشن مکمل طور پر سعودی دستوں نے ہی انجام دیا۔

اسی نازک مرحلے پر سعودی حکام نے انتہائی راز داری کے ساتھ فرانسیسی اسپیشل فورس 'GIGN' کے چند ماہرین کو مکہ بلایا۔ انہیں روایتی معنوں میں اسلام قبول کروایا گیا تاکہ وہ مقدس حدود کے اندر تک بریفنگ اور پلاننگ میں حصہ لے سکیں۔

فرانسیسی ماہرین نے براہِ راست لڑائی نہیں لڑی—بلکہ گیس، انڈرگراؤنڈ آپریشن، سرنگوں کی صفائی، اور محدود دھماکوں کے استعمال کا مکمل طریقہ سعودی فورسز کو سمجھایا۔ انہی کی رہنمائی پر صحن میں بڑے ڈرل استعمال کیے گئے تاکہ سرنگوں تک رسائی بنے اور باغیوں کی اوپر والی پوزیشن کمزور ہو۔

خانۂ کعبہ کے تہہ خانوں میں خونریز مقابلہ

محاصرے کے آخری دنوں میں مسجدِ الحرام کے تہہ خانے ایک بے رحم جنگی میدان میں بدل چکے تھے۔ جُہیمان اور اس کے باقی بچے ہوئے ساتھی مسلسل گیس، دھماکوں اور پانی چھوڑے جانے کے باوجود ضد کے ساتھ زیرِ زمین سرنگوں میں ڈٹے رہے۔ سعودی فورسز نے فرانسیسی ماہرین کی رہنمائی میں صحن میں بڑے ڈرل چلا کر نئی راستے بنائے، کئی سرنگوں کے داخلی حصے اڑا کر راستہ کھولا، اور پھر گیس کے بھرپور استعمال کے بعد آخری دھاوا بولا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب روشنی، شور اور فائرنگ نے اندھیرے میں پنجے گاڑھے بیٹھے باغیوں کا حوصلہ توڑ دیا۔ کئی شدت پسند بھاگنے کی کوشش میں مارے گئے، کچھ پانی میں پھنس کر ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہوئے، اور باقی گیس سے نیم بے ہوش حالت میں پکڑے گئے۔

محمد بن عبداللہ القحطانی—جسے جُہیمان نے

“مہدی” قرار دیا تھا—اسی آخری جھڑپ میں مارا گیا، اور اس کی موت نے گروہ کا حوصلہ مزید پاش پاش کر دیا۔

جُہیمان بن سیف کو اسی لڑائی کے خاتمے پر چند ساتھیوں سمیت زندہ گرفتار کیا گیا۔ اسے ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا جب باہر لایا گیا تو اس کے چہرے پر حیرت، شکست اور خاموشی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ سعودی حکام نے گرفتار شدت پسندوں سے طویل تفتیش کی، ان کے نیٹ ورک، اسلحے کی ترسیل اور نظریاتی بنیادوں کی چھان بین کی، اور پھر شرعی عدالت نے فیصلہ سنایا۔

چند ہفتوں بعد جُہیمان سمیت 63 باغیوں کو سعودی عرب کے مختلف شہروں میں عبرتناک مثال بنانے کے لیے سرِعام سزائے موت دی گئی۔ یوں 15 روزہ محاصرے اور خونریز لڑائی کے بعد دنیا کی مقدس ترین جگہ دوبارہ امن کی طرف لوٹی—مگر جُہیمان کا حملہ تاریخ کے صفحات پر ایسا زخم چھوڑ گیا جس نے پوری امت کو ہلا کر رکھ دیا۔

حرم کی صفائی، سعودی کی بدلتی سکیورٹی دنیا

محاصرہ ختم ہونے کے بعد مسجدِ الحرام میں خون اور تباہی کے آثار صاف کرنا ایک مشکل اور حساس مرحلہ تھا۔ تہہ خانوں سے لاشیں نکالی گئیں، زمین پر چھوٹے چھوٹے گولہ بارود کے نشانات مٹائے گئے، اور حرم کو عبادت کے لیے دوبارہ محفوظ بنایا گیا۔ اس خوفناک واقعے نے سعودی حکومت کو اپنی سکیورٹی اور انٹیلیجنس کی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا۔ حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے داخلی و خارجی راستے سخت نگرانی میں آ گئے، فوجی اور پولیس یونٹس کی تعیناتی بڑھائی گئی۔

جُہیمان کے عمل کا سبق – عقیدے کے نام پر فتنہ

سنہ 1979 کا خانۂ کعبہ حملہ نہ صرف مکہ بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے صدمے اور خوف کا لمحہ تھا۔ جُہیمان بن سیف کے انتہا پسندانہ اقدامات نے لاکھوں نمازیوں کی روحانی حفاظت کو خطرے میں ڈال دیا اور عالمی برادری میں گہری تشویش پیدا کی۔ یہ واقعہ ہمیں آج بھی یاد دلاتا ہے کہ عقیدے کے نام پر اٹھنے والا فتنہ ہمیشہ خون، خوف اور تباہی لاتا ہے، اور کسی بھی مذہبی یا نظریاتی انتہا پسندی کے خلاف مضبوط شعور، تعلیم اور نظام کی ضرورت