افغانستان کا طالبان کمانڈر ملا محمد عمر، قندہار کا بھوت
ملا محمد عمر، جسے دنیا نے "قندہار کا بھوت" کہا، ایک ایسا رہنما تھا جو کبھی اسکرین پر نہیں آیا، کبھی انٹرویو نہیں دیا، اور پوری زندگی پردہ کے پیچھے رہا۔ اس کی زندگی، موت اور موجودگی آج تک ایک معمہ ہے—ایک ایسا راز جس پر تحقیق کرنے والے خود بھی گم ہو جاتے ہیں۔
ملا محمد عمر ۔ زندگی کا مفصل خلاصہ
قندہار کے قریب چاہِ ہمت نامی چھوٹے پشتون گاؤں میں جنم لینے والا ملا محمد عمر اپنے والد مولوی غلام نبی کے زیرِ اثر مقامی مدرسے میں قرآنی تعلیم حاصل کرتا رہا۔ نوجوانی میں سوویت قبضے کے خلاف جہاد میں شامل ہوا اور اسی لڑائی میں اپنی ایک آنکھ کھو بیٹھا۔ سنہ 1994 کے اوائل میں جب ملک خانہ جنگی میں تھا، اس نے ننگرھار میں طالبان کی تنظیم قائم کی، ابتدائی طور پر اس کے ہدف میں مقامی جنگجوؤں کے ظلم، کرپشن اور جنگی لٹیرے شامل تھے۔ مگر چند سالوں میں یہ تحریک ایک منظم سیاسی فورس بن گئی جس نے 1996 میں کابل پر قبضہ کر کے ملک پر حکمرانی شروع کر دی۔ بطور امیر وہ مراسلوں، مختصر ہدایات اور قابلِ اعتماد نمائندوں کے ذریعے طاقت چلانے والا رہنما تھا۔
سنہ 2001 میں امریکہ نے اس کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس واقعے کے بعد وہ بقیہ عمر پردۂ سکوت میں گزارنے لگا۔ اس کی نہ تصویر تھی، نہ عام طور پر ریکارڈڈ تقریر، اسی لیے اس کی شخصیت افسانوی پہلو اختیار کر گئی: کئی لوگ اسے قلبی قائد سمجھیں، کئی لوگ ظالم حکمران۔ اور جب بات اس کی موت کی آئی تو راز مزید گہرے ہو گئے۔۔ ان سب نے اسے ایک ایسا کردار بنا دیا جو تاریخ میں حقیقت اور افسانے کے بیچ معلق رہ گیا، اور جس کے اثرات آج بھی افغانستان کی سیاست، طالبان کی روایات اور خطے کی جیوپولیٹکس میں گونجتے ہیں۔
جنگی کارنامے اور حکمرانی
ملا محمد عمر نے 1990 کی دہائی میں طالبان کو ایک مسلح قوت سے ایک ملک گیر حکمرانی تک پہنچایا، اور 1996 میں کابل پر قبضہ کے ذریعے ایک سخت مذہبی انتظام قائم کیا۔ 2001 میں بامیان کے بدھ مجسموں کی منظم تباہی کی ہدایت اسی دور کی واحد علامت بنی، جسے عالمی برادری نے ثقافتی بربادی قرار دیا۔ حکمرانانہ انداز میں ملا عمر نے زبردست اجتماعی کنٹرول نافذ کیا۔ سخت نسخۂِ شریعت کے تحت عوامی سلوک، خواتین کے حقوق، تعلیم اور میڈیا پر پابندیاں عاید کیں اور سنگین سزائیں (عوامی پھانسی، اعضا کاٹنے جیسی) نافذ کرکے نظم برقرار رکھا، جس کے خلاف انسانی حقوق کے اداروں نے مسلسل تنقید کی۔ .
بین الاقوامی سطح پر اس کا نام اسامہ بن لادن کے ساتھ منسلک ہوا جب بن لادن کو پناہ دی گئی۔ اس کی کی پناہ نے افغانستان کو بین الاقوامی دباؤ اور بالآخر 2001 کی امریکی
قندہار کے ریگستانوں میں گمشدہ رہنما
سات اکتوبر 2001 کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں وسیع فضائی بمباری اور مخصوص زمینی کارروائیوں کے ذریعے شروع کیا، جس کا مقصد القاعدہ کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا اور طالبان کی مرکزی قوت کو پسپا کرنا تھا۔ مگر اس تیز رفتار مہم اور تباہ کن فضائی بمباری کے باوجود، ملا محمد عمر غائب رہنے میں کامیاب رہا۔ ایک ایسا سایہ جو کبھی نظر نہ آیا۔ جبکہ امریکی ڈرونز، سیٹلائٹ اسکیننگ اور دیگر جدید نگرانی کے نظام مسلسل اس کی حرکتوں پر نظر رکھے ہوئے تھے، مگر وہ ہر بار ان سے بچ نکلتا رہا۔
کچھ دعوے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ملا محمد عمر امریکی فوجی اڈے فارورڈ آپریٹنگ بیس لغمان اور بعد میں فارورڈ آپریٹنگ بیس وولورین کے چند کلومیٹر فاصلے پر برسوں رہائش پذیر رہا، جبکہ دنیا یہ سمجھتی رہی کہ وہ پاکستان میں چھپا ہے۔ مقامی گواہوں کے مطابق وہ روزانہ معمولی کپڑوں میں، بغیر پہچانے، گاؤں کے بیچوں بیچ گزرتا، کبھی مسجد میں، کبھی بازار میں مختصر ملاقاتیں کرتا، اور ہاتھ سے لکھے گئے نوٹس یا چھوٹے مراسلات کے ذریعے طالبان کے فیصلے کرواتا۔ ان سب واقعات نے اسے ایک خفیہ حکمران بلکہ ایک “چلتا پھرتا افسانہ” بنا دیا — ایک ایسا سایہ جو نہ ریت میں نشان چھوڑتا، نہ کسی کی نظروں میں آتا، اور جسے تلاش کرنے والے آخرکار خود راستہ بھول جاتے۔
موت کا راز… دعوے، افواہیں اور چھپے ہوئے انکشافات
ملا عمر کی موت کے بارے میں جتنی کہانیاں ہیں، اتنے ہی تضاد۔ سنہ 2008 میں امریکی فوج اور کچھ پاکستانی میڈیا نے پہلی بار دعویٰ کیا کہ وہ ڈرون حملے میں مارا گیا، مگر اس وقت طالبان نے اسے "جھوٹا پروپیگنڈا" قرار دے کر رد کر دیا۔ امریکی انٹیلی جنس نے وقتاً فوقتاً رپورٹس جاری کیں کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں یا کراچی میں علاج کے لیے آیا ہوا تھا اور اسی دوران مر گیا، مگر کوئی تصویری ثبوت یا لاش پیش نہ کی جا سکی۔
سنہ 2011-2012 میں پھر ایک لہر اٹھی کہ وہ کوئٹہ میں ایک خفیہ اسپتال میں وفات پا گیا، لیکن بعد میں طالبان ذرائع نے اسے "گھڑی ہوئی کہانی" کہا۔ دوسری طرف کچھ افغان انٹیلی جنس رپورٹوں نے دعویٰ کیا کہ ملا عمر 2008 ہی میں انتقال کر گیا تھا، لیکن طالبان نے موت کو چھپائے رکھا تاکہ تحریک میں تقسیم نہ پیدا ہو۔
سنہ 2015 میں طالبان نے آخرکار اعلان کیا کہ وہ 2013 میں بیماری سے مر چکا ہے، مگر یہ اعلان بھی دو سال تاخیر سے کیا گیا، اور اسی تاخیر نے مزید شبہات پیدا کیے۔ ایک حیران کن انکشاف یہ بھی ہوا کہ کچھ ذرائع کے مطابق وہ پورے
جس بندے کے پاس وہ رہا — جیتی جاگتی گواہی، خوف اور راز
قندہار کے اس آدمی کی کہانی سب سے حیران کن ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ ملا عمر مہینوں تک اس کے گھر میں رہا۔ اور یہی بندہ یوٹیوب پر بیٹھ کر بتاتا ہے کہ "وہ عام کپڑوں میں رہتا تھا، چادر لپیٹے، اتنا سادہ کہ کوئی سوچ بھی نہ سکے کہ یہی طالبان کا بانی ہے۔" وہ کہتا ہے کہ ملا عمر نہ اونچی آواز میں بولتا، نہ زیادہ لوگوں سے ملتا، بس ایک کمزور سی روشنی میں بیٹھ کر قرآن پڑھتا یا اپنے مددگار کو مختصر ہدایات دیتا۔
وہ کہتا ہے کہ امریکی فوج چند کلومیٹر دور تھی، رات کو ہیلی کاپٹر گھومتے تھے، مگر ملا عمر اتنا پرامن، اتنا بے نیاز بیٹھا رہتا تھا جیسے دنیا کی جنگ اس سے ہزاروں میل دور ہو۔ اس گواہ کے مطابق، ملا عمر اپنے ہاتھ سے لکھے نوٹس بھیج کر پورے خطّے میں فیصلے کرواتا تھا، مگر خود نظر نہیں آتا تھا۔
ویڈیو جو کبھی سامنے نہیں آئی
ملا عمر کی زندگی کے سب سے بڑے اسرار میں سے ایک اس کا وہ ویڈیو ریکارڈ ہے جو کبھی دنیا کے سامنے نہیں آیا۔ صحافیوں اور عالمی میڈیا کی رپورٹوں میں کئی بار یہ ذکر آیا کہ طالبان نے 1990 اور 2000 کی دہائی میں ان کے رہنما کے خطاب یا ہدایات ریکارڈ کرائے، مگر وہ ویڈیوز کبھی عام نہیں ہوئیں۔ کچھ دعوے یہ بھی ہیں کہ یہ ویڈیوز خفیہ مقامات پر چھپائی گئی تھیں، تاکہ نہ صرف ملا عمر کی شناخت محفوظ رہے بلکہ عالمی طاقتیں اور مخالفین اسے ہرگز نہ دیکھ سکیں۔
ملا عمر زندہ ہے ; افواہوں کا طوفان اور قندہار کی راتیں
طالبان رہنما ملا عمر کی زندگی کے بعد بھی قندہار کی راتیں ابھی تک سنسان نہیں ہوئیں؛ ہر گاؤں میں، ہر خاموش صحرائی راہ پر، اور ہر رات کی تاریکی میں اس کے نام کی افواہیں گونجتی رہتی ہیں۔ دنیا کے ہر کونے میں صحافی، جاسوس اور تاریخ دان یہی پوچھتے ہیں: "کیا وہ اب بھی زندہ ہے؟" کبھی کسی نے کہا کہ وہ پاکستان میں چھپا ہوا ہے، کبھی کسی نے دعویٰ کیا کہ افغانستان کے پہاڑوں میں وہ اب بھی اپنے چند وفاداروں کے ساتھ موجود ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ خاموشی سے گاؤں کے بیچوں بیچ گزرتا ہے، بغیر کسی کو پہچانے۔ یہی اسرار، یہی ہولناکی، اور یہی افواہوں کا طوفان ملا عمر کو صرف ایک شخص نہیں بلکہ ایک زندہ افسانہ بنا دیتا ہے، جس کے اثرات آج بھی طالبان کی حکمرانی اور دنیا کی سیاسی حکمت عملیوں پر چھائے ہوئے