دماغ کو کھانے والا امیبا - نیوگلیریا فاؤلری - خاموش قاتل جو ہمارے نلکے کے پانی میں بھی چھپ سکتا ہے
پاکستان اور دنیا کے کئی گرم اور نیم گرم ممالک میں ایک خفیہ اور خطرناک دشمن چھپا بیٹھا ہے، جس نے انسانی جانوں پر خاموش مگر مہلک حملے کیے ہیں — نیوگلیریا فاؤلری، جسے عام زبان میں “دماغ کھانے والا امیبا” کہا جاتا ہے۔ یہ مائیکرو جرثومہ زیادہ تر پانی میں پایا جاتا ہے، اور بظاہر بے ضرر لگتا ہے کیونکہ نہ اس کی کوئی بو ہوتی ہے، نہ رنگ، اور نہ کوئی واضح علامت۔ لیکن جیسے ہی یہ ناک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے، یہ اعصابی راستوں کے ذریعے دماغ تک پہنچ کر شدید سوزش اور تباہی مچاتا ہے، اور اکثر مریض کے پاس زندہ رہنے کا موقع نہ رہتا۔ یہ خطرہ صرف پاکستان تک محدود نہیں: انڈیا، مصر، برازیل، تھائی لینڈ اور امریکہ کے جنوبی ریاستوں جیسے فلوریڈا اور ٹیکساس میں بھی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
یہ آتا کہاں سے ہے؟
ماہرین کے مطابق نیوگلیریا فاؤلری ایک ایسا امیبا ہے جو بنیادی طور پر گرم پانی، قدرتی چشمے، تالاب، گندے پانی اور نیم گرم مٹی والے پانی کے ذخائر میں پایا جاتا ہے۔ یہ مایکرو سکوپی سطح پر موجود ہوتا ہے اور انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتا، لیکن مناسب ماحول میں یہ تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ اس کا اصل ماخذ عموماً قدرتی پانی کے ذخائر ہیں، جیسے درختوں کے نیچے جمع شدہ پانی، تالاب، گرم چشمے اور ندی نالے۔ کچھ تحقیق کے مطابق یہ امیبا گرم موسم والے علاقوں میں پیدا ہوا اور پھیلنا شروع ہوا، خصوصاً پاکستان کے بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور اور حیدرآباد میں، جہاں پانی کی ٹینکیاں اکثر گرمی سے گرم ہو جاتی ہیں اور کلورین کم ہوتا ہے، یہ امیبا آسانی سے پھیل سکتا ہے۔
یہ دماغ تک کیسے پہنچتا ہے؟
نیوگلیریا فاؤلری پیٹ سے نہیں جاتا، بلکہ ناک

جب لوگ ناک میں پانی چڑھا کر وضو کرتے ہیں،
یا تیراکی کرتے ہوئے گندے یا نیم گرم پانی میں وقت گزارتے ہیں،
اور وہ لوگ جو گندے پانی کے قریب رہتے ہیں۔
ناک کے اندر موجود اعصابی راستے اسے سیدھا دماغ تک پہنچا دیتے ہیں، جہاں یہ چند دنوں میں شدید سوزش پیدا کرتا ہے، دماغی خلیات کو تباہ کرتا ہے اور اکثر جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
علامات کیا ہوتی ہیں؟
نیوگلیریا فاؤلری کی علامات عام طور پر کسی معمولی بیماری جیسے بخار کے ساتھ شروع ہوتی ہیں، اس لیے اسے ابتدائی طور پر پہچاننا مشکل ہوتا ہے۔ مریض کو تیز بخار، شدید سر درد، الٹی، گردن اکڑ جانا، روشنی سے تکلیف اور کبھی کبھار بے ہوشی جیسی علامات محسوس ہو سکتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر کیسز میں بیماری بہت تیزی سے بڑھتی ہے اور مریض کے پاس صرف 24 سے 72 گھنٹے زندہ رہنے کے لیے بچتے ہیں، اس لیے فوری تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں نتائج اکثر جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔
علاج کیوں مشکل ہے؟
نیوگلیریا فاؤلری کا علاج دنیا کے کسی بھی ملک میں انتہائی مشکل ہے۔ امریکہ، یورپ، پاکستان اور دیگر ممالک میں اس بیماری کی شرح اموات تقریباً 99 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ علامات ابتدائی مرحلے میں عام بخار یا سر درد کی مانند ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے اکثر مریض وقت پر تشخیص نہیں ہو پاتے۔ اگر بیماری جلد پکڑی بھی جائے، تب بھی صرف چند مریض ہی زندہ بچ پاتے ہیں، کیونکہ اس امیبا کے خلاف کوئی مکمل مؤثر دوا دستیاب نہیں ہے۔ موجودہ علاج میں اینٹی مائیکروبیل اور اینٹی فنگل ادویات استعمال کی جاتی ہیں، مگر یہ

بچاؤ ہی واحد حل کیوں؟
چونکہ نیوگلیریا فاؤلری کا علاج تقریباً ناممکن ہے، ماہرین ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ “بچاؤ ہی اصل علاج ہے”۔ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس خطرناک امیبا سے بچا جا سکتا ہے۔ گھر کی پانی کی ٹینکیوں میں باقاعدگی سے کلورین ڈالنا، وضو کے دوران ناک میں پانی زور سے نہ ڈالنا، نلکے کے پانی سے احتیاط برتنا، گرم موسم میں اضافی محتاط رہنا، اور صاف پانی سے غسل و تیراکی کرنا انتہائی ضروری ہیں۔ کراچی جیسے شہروں میں ہر سال کیسز سامنے آتے ہیں، مگر عوامی آگاہی اب بھی بہت کم ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ خاموش قاتل مسلسل جانیں لیتا رہتا ہے۔
اصل مسئلہ اور نتیجہ
المیہ یہ ہے کہ لوگ نیوگلیریا فاؤلری کو اکثر افواہ یا بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی بات سمجھتے ہیں، مگر حقیقت اس وقت سامنے آتی ہے جب کوئی قریبی شخص اس کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ امیبا نہ نظر آتا ہے، نہ کوئی بو یا رنگ رکھتا ہے، اور یہی اس کی سب سے خطرناک خوبی ہے۔ ہمارے شہروں کی بڑھتی آبادی، پرانی واٹر سپلائی لائنز، کمزور کلورینیشن اور شدید گرمی نے اس خاموش قاتل کے لیے بہترین ماحول فراہم کر دیا ہے۔ اگر ہم پانی کی صفائی، شہری آگاہی اور حکومتی توجہ کو معمولی سمجھتے رہے تو یہ امیبا مسلسل قیمتی جانیں لیتا رہے گا، اور یہی وجہ ہے کہ بچاؤ کے اقدامات اور شعور سب سے زیادہ ضروری ہیں۔