کیا 9/11 واقعی وہی تھا جو ہمیں دکھایا گیا

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ملبے سے اٹھتے سوال

کیا 9/11 واقعی وہی تھا جو ہمیں دکھایا گیا ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ملبے سے اٹھتے سوال

نیویارک, 11 ستمبر 2001 کی وہ صبح جب دو مسافر طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرائے، آسمان ایک لمحے کو جل اٹھا، اور دنیا نے تاریخ کا سب سے ہولناک منظر دیکھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب صرف ہائی جیکنگ کا نتیجہ تھا، یا کچھ اور بھی پسِ پردہ تھا؟ حامی نظریہ کے مطابق یہ محض بیرونی حملہ نہیں بلکہ ایک اندرونی منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔ ہم آج اسی پہلو پر نظر ڈالیں گے — کہ کیا واقعی ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے انہدام کے پیچھے پہلے سے نصب دھماکہ خیز مواد کارفرما تھا؟

ورلڈ ٹریڈ سینٹر — پس منظر اور اہمیت

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کمپلیکس نیویارک کے "لوئر مین ہیٹن" میں تعمیر کیا گیا، جس کی بنیاد 1966 میں رکھی گئی اور 1973 میں مکمل ہوا۔ اس میں دو مرکزی ٹاورز شامل تھے — ہر ایک 110 منزلہ اور تقریباً 417 میٹر بلند۔ روزانہ اندازاً پچاس ہزار سے زائد ملازمین اور دو لاکھ کے قریب وزیٹرز یہاں آتے تھے۔ یہ عمارتیں عالمی تجارت، مالیاتی اداروں، اور انشورنس کمپنیوں کا دل سمجھی جاتی تھیں۔

حملے کا دن: طیاروں کا ٹکراؤ اور ابتدائی ردِعمل

11 ستمبر کی روشن صبح میں چار مسافر طیارے اپنے مقررہ راستے سے اچانک ہٹ گئے۔ چند لمحوں بعد، ایک زوردار دھماکے کے ساتھ پہلا طیارہ شمالی ٹاور سے جا ٹکرایا، پھر دوسرا جہاز جنوبی ٹاور میں گھس گیا — اور لمحوں میں نیویارک کا آسمان آگ اور دھوئیں سے بھر گیا۔ گلیوں میں بھاگتے لوگ، چیختے سائرن، اور زمین ہلانے والے جھٹکوں نے شہر کو مقتل بنا دیا۔ صرف انہی دو ٹاورز نہیں، بلکہ شام تک ساتویں عمارت (ورلڈ ٹریڈ سینٹر7) بھی اچانک نیچے بیٹھ گئی — حالانکہ اُسے کسی طیارے نے چھوا بھی نہیں تھا۔

کنٹرولڈ ڈی مولیشن — نظریے کا خلاصہ

حامیوں کے مطابق یہ منظر مہینوں کی خاموش منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا: عمارت کے کور اور ستونوں کے پاس چھپائے گئے چا رجز کو ترتیب وار متحرک کر کے ٹاورز کو اندر کی طرف تیزی سے گرایا گیا، اور اسی عمل کے دوران وڈیوز میں بار بار نظر آنے والی چھوٹی چھوٹی چنگاریاں اور کنٹرولڈ دھماکوں جیسی صوتی آوازیں اسی تنصیبات کے آثار ہیں۔

خاص طور پر ساتویں عمارت (ورلڈ ٹریڈ سینٹر7) کا ناگہانی اور متوازی انہدام حامیوں کے نزدیک سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے، کیونکہ اسے کسی طیارے نے ٹکرایا تک نہیں تھا۔ حمایتی ماہرین کہتے ہیں کہ ایسا منظم، عمودی اور تیز سقوط محض آگ یا ملبے کی وجہ سے نہیں ہو سکتا بلکہ اندر سے لگائے گئے چا رجز ہی اس کی بہترین وضاحت دیتے ہیں۔ اُن کے مطابق مرمت یا لفٹ اپ گریڈ جیسے بہانوں سے حاصل کردہ داخلی رسائی اور مخصوص ساز و سامان نے یہ سب ممکن بنایا۔

طیاروں کا قبضہ — آسمانوں میں ایک معمہ

حامی مؤقف کے مطابق 11 ستمبر کی صبح چار امریکی طیاروں پر قبضے کی کہانی کئی جگہوں پر سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ ان میں سے دو بوئنگ 767 تھے، جو ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرائے، ایک پینٹاگون میں جا گرا، جبکہ چوتھا پنسلوانیا میں۔ مگر حیرت یہ ہے کہ ہزاروں فلائٹ ٹریننگ گھنٹوں کے بغیر چند عرب نژاد افراد نے اتنے بڑے کمرشل طیارے اتنی درستگی سے کیسے چلائے؟ ماہرین کہتے ہیں کہ بوئنگ 767 کو نچلی اونچائی پر تیز رفتاری سے سنبھالنا تجربہ کار پائلٹس کے لیے بھی چیلنج ہوتا ہے، مگر ویڈیوز میں طیارے سیدھے اور بالکل ہدف پر جاتے نظر آتے ہیں۔ بعض حمایتی دلیل دیتے ہیں کہ طیاروں نے ایسی تیز اور کٹی موڑ لیے جیسے وہ کسی اندر نصبِ نشان یا بییکن کی طرف جا رہے ہوں — ایک عام پائلٹ اس طرح کی مانورنگ معمول کے حالات میں کبھی نہیں کرتا۔ مزید یہ کہ ہائی جیکنگ کے دوران کوئی ایمرجنسی سگنل، امرجنسی کوڈ یا رابطہ پیغام تک نہ بھیجا گیا، اس سے بھی بڑھ کر، مسافروں کی فہرستوں میں کچھ نام بعد میں "زندہ" ظاہر ہونے کے دعوے سامنے آئے، اور پینٹاگون حادثے میں طیارے کا کوئی نمایاں ملبہ، پرزہ یا انجن دستیاب نہیں ہوا۔ حامیان کہتے ہیں کہ یہ سب اتنی تیزی سے "صاف" کر دیا گیا کہ سوال باقی رہ گئے۔ کیا یہ محض اتفاق تھا، یا کسی بڑے اسکرپٹ کا حصہ؟

پوشیدہ گٹھ جوڑ — اسرائیل، اسامہ اور جنگی معیشت کا کھیل

حامی نظریہ کہتا ہے کہ 11 ستمبر کے پردے کے پیچھے صرف چند ہائی جیکرز نہیں

بلکہ کئی طاقتوں کے مفاد جڑے ہوئے تھے۔ کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد مشرقِ وسطیٰ کی سمت امریکی پالیسی میں جو سخت موڑ آیا، اس سے سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل اور بڑی جنگی کمپنیوں نے اٹھایا۔ دفاعی بجٹ میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہوا، لاک ہیڈ مارٹن اور رے تھیون جیسے اداروں کے شیئرز آسمان کو چھونے لگے، اور "دہشت کے خلاف جنگ" کے نام پر طویل جنگی معاہدے طے ہوئے۔ دوسری طرف، اوسامہ بن لادن کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا گیا، مگر حامی سوال اٹھاتے ہیں — کیا وہ صرف ایک مہرہ تھا، جسے ایک بڑی شطرنج میں آگے بڑھایا گیا؟ دنیا اس روز ملبے میں سچ تلاش کر رہی تھی، مگر کچھ کہتے ہیں کہ اصل کھیل کہیں اور کھیلا جا چکا تھا۔

امریکی حکومت یا ایجنسیوں کے ممکنہ مقاصد

مزید یہ کہ افغانستان کے زیرِ زمین قیمتی معدنیات — بشمول لیتھیم — کو حامی ایک بڑا معاشی محرک سمجھتے ہیں، جبکہ عراق کی جنگ کے بعد وہاں کے تیل کے ذخائر پر امریکی کمپنیوں کا اثر و رسوخ بڑھ جانا بھی اسی مفاداتی سلسلے کی کڑی قرار دیا جاتا ہے۔ سرکاری اداروں کی طاقت اور نگرانی میں توسیع (جیسے ہوم لینڈ سکیورٹی کی تشکیل اور پیٹریاٹ ایکٹ جیسے قوانین) نے داخلی کنٹرول کو مزید سخت کیا، جسے حامیان "قابو اور مفاد" کے دروازے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق 9/11 نے امریکہ کو ایک ساتھ وسائل، اختیار اور خوف — تینوں پر قبضہ دے دیا۔

سوالات جو اب بھی جواب طلب ہیں

دو دہائیاں گزرنے کے باوجود کئی بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ قائم ہیں — کیا واقعتاً تمام مٹیریل نمونوں کا آزاد تجزیہ ہوا؟ کیا ورلڈ ٹریڈ سینٹر7 کی برق رفتار تباہی صرف آگ کی حرارت سے ممکن تھی؟ کیا دستیاب وڈیوز مکمل اور غیر ترمیم شدہ ہیں؟ اور کیا عملے و پائلٹس کے بیانات ہر زاویے سے پیش کیے گئے؟

یہی سوالات آج بھی حامیوں کو اس واقعے کی تہہ تک پہنچنے پر آمادہ رکھتے ہیں۔ اُن کا مطالبہ صرف ایک ہے — شفاف، غیر جانب دار اور مکمل تحقیق، تاکہ دنیا آخرکار اس المیے کی اصل سچائی کو جان