برمودا ٹرایینگل، بحری اور ہوائ جہازوں کا قبرستان ۔ سنہ 1945 کا پراسرار واقعہ

برمودا ٹرایینگل، بحری اور ہوائ جہازوں کا قبرستان ۔ سنہ 1945 کا پراسرار واقعہ

بحرِ اوقیانوس کے مغربی حصے میں ایک فرضی ٹرایینگل واقع ہے جس کے تین سرے میامی، برمودا اور سان خوان کو ملاتے ہیں۔ تقریباً پانچ لاکھ مربع میل پر پھیلا یہ سمندری علاقہ ان اچانک گمشدگیوں کی وجہ سے مشہور ہے جہاں کئی جہاز اور طیارے بنا نشانی کے غائب ہو چکے ہیں۔ موسم کے اچانک بدلتے رخ، کمپاس کی خرابی اور ریڈیو سگنل کی کمزوری نے اس تکون کو ایک دیرینہ راز بنا دیا ہے، جس کی حقیقت آج بھی مکمل طور پر حل نہیں ہو سکی۔

سنہ 1945 کا پراسرار واقعہ — برمودا ٹرایینگل

سنہ 1945 میں بحرِ اوقیانوس کے نیلگوں پانیوں میں واقع ٹرایینگل نے دنیا کو حیرت اور خوف میں مبتلا کر دیا، جب امریکی فوج کے پانچ تربیتی بمبار جہاز، جنہیں فلائٹ 19 کہا جاتا ہے، معمول کے مشق کے لیے روانہ ہوئے۔ ابتدا میں سب کچھ معمول کے مطابق تھا، لیکن اچانک کمپاس نے غیر معمولی سمت دکھانی شروع کر دی اور جہاز راستہ بھول گئے۔ کیپٹن نے ریڈیو پر آخری بار خوفزدہ لہجے میں کہا: "یہاں سب کچھ الٹا ہو رہا ہے… ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا…"۔ چند ہی لمحوں بعد پانچوں جہاز غائب ہو گئے، اور ان پر سوار چھیاسی افراد کا کوئی سراغ نہیں ملا، نہ جہاز کے ٹکڑے، نہ لاشیں۔

جب یہ خبر امریکی نیوی تک پہنچی، تو فوری طور پر امدادی جہاز روانہ کیا گیا، لیکن وہ بھی اچانک غائب ہو گیا اور تمام عملے کے سات افراد لاپتہ ہو گئے۔ اس واقعے نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کے بعد 1960 اور 1970 کی دہائی میں اخبارات، کتابوں اور تحقیقی رپورٹس نے سایکلوپس جیسے پرانے حادثات کو بھی سامنے لایا، جس میں 1918 میں یو ایس ایس سایکلوپس کا اچانک غائب ہونا شامل ہے، جس میں تین سو سے زائد افراد سوار تھے اور آج تک اس کا کوئی نشان نہیں ملا۔ اس حادثے کے بعد برمودا ٹرایینگل ایک ایسا پراسرار سمندری علاقہ بن گیا۔

برمودا ٹرایینگل کے 1945 کے بعد کے ڈرامائی واقعات

سنہ

1963 میں کیریبیئن کشتی کنمارا اچانک طوفانی سمندر میں غائب ہو گئی، نہ کشتی کے ٹکڑے ملے نہ عملے کے اراکین۔ سنہ 1965 میں امریکی ذیلی جہاز یو ایس ایس اسکارپین، جس میں 99 اہلکار سوار تھے، اچانک غائب ہو گیا، اور بعد میں صرف کچھ ملبہ ملا، جبکہ اصل سبب آج تک ایک راز بنا ہوا ہے۔ سنہ 1948 میں دو مسافر جہاز، سٹار ٹائیگر اور سٹار ایرئیل، اچانک غائب ہو گئے، اور ان کا کوئی سگنل یا نشان نہیں ملا۔

سنہ 1973 میں کارگو جہاز مارین سلفر کوئین، جس میں گندھک کا بوجھ تھا، اچانک غائب ہو گیا، نہ ملبہ ملا نہ کسی کی جان بچ سکی۔ سنہ 1980 کی دہائی میں چھوٹی نجی کشتیوں اور ہوائی جہازوں کی پراسرار گمشدگیاں جاری رہیں، اکثر موسم کے اچانک بدلنے، کمپاس کی خرابی، یا نامعلوم قوتوں کی وجہ سے، جن کے بارے میں آج تک کوئی واضح وضاحت موجود نہیں۔

اجنبی مخلوق/UFOs، عینی شاہدین کے مشاہداتسنہ 1947 میں ایک کشتی کے عملے نے اطلاع دی کہ اچانک آسمان میں چمکتی ہوئی غیر معمولی روشنیوں کی قطار دیکھی گئی، جو ایک لمبے وقت تک حرکت کرتی رہیں اور پھر اچانک غائب ہو گئیں۔ بعض دعوے یہ بھی کرتے ہیں کہ جہاز کی ہلکی سی دھندلی روشنی میں UFOs کی شکلیں واضح ہوئیں، جو چند لمحوں میں غائب ہو گئیں۔

سنہ 1963 میں سٹار ٹائیگر کے عملے نے اپنی لاپتہ ہونے سے پہلے ریڈیو پر یہ رپورٹ کی: "آسمان میں روشنی کے عجیب مظاہر… جہاز کی رفتار قابو سے باہر… ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا"۔ عینی شاہدین کے یہ مشاہدات آج بھی UFO کے ممکنہ اثر کو مضبوط دلیل مانے جاتے ہیں۔ سنہ 1970 کی دہائی میں ایک ماہی گیر نے بتایا: "سمندر کی گہرائی سے عجیب آوازیں آ رہی تھیں… پانی میں لہریں ایسے اٹھ رہی تھیں جیسے کوئی زندہ مخلوق نیچے سے حرکت کر رہی ہو"۔

برمودا ٹرایینگل کے پراسرار راز کی وضاحتیں

سائنسی وضاحتیں:

برمودا ٹرایینگل کے غائب ہونے والے جہاز اور طیاروں کے اسرار کو سائنسدان

کئی دلچسپ اور ممکنہ وجوہات سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ اچانک پیدا ہونے والے طوفان اور بلند لہریں اتنی طاقتور ہوتی ہیں کہ بڑے جہاز بھی لمحوں میں قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔ کچھ محققین کے مطابق سمندر کے نیچے سے اٹھنے والی میتھین گیس کے ببلز پانی کی کثافت اتنی کم کر دیتے ہیں کہ جہاز اچانک ڈوب سکتا ہے، جیسے سمندر خود اسے نگل رہا ہو۔

پراسرار اور ماورائی نظریات:

برمودا ٹرایینگل کے بارے میں بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ یہاں کوئی غیر مرئی طاقت کام کر رہی ہے، جو جہازوں، کشتیوں اور ہوائی جہازوں کو لمحوں میں نگل جاتی ہے۔ کہانیاں سنائی جاتی ہیں کہ جیسے ہی کوئی جہاز ٹرایینگل کے حدود میں داخل ہوتا ہے، ہوا میں ایک عجیب سکون اور خوف کا ملا جلا اثر محسوس ہوتا ہے، کمپاس اور آلات دھوکہ دینے لگتے ہیں۔

کئی گواہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ٹرایینگل میں اچانک روشنی کے عجیب جھلکیاں، برقی مقناطیسی لہریں اور سمندر کے نیچے دھڑکن جیسی آوازیں محسوس کی ہیں، جو انسانی دماغ کو دھیما کر دیتی ہیں اور جہاز یا طیارے کو راستہ بھٹکا دیتی ہیں۔ مقامی ملاح کہتے ہیں کہ کبھی کبھی پانی “زندہ” محسوس ہوتا ہے، جیسے اس کے نیچے کوئی ہولناک وجود جاگ رہا ہو، ہر لہر میں سانپ کی طرح خطرہ چھپا ہو، اور ہر آواز میں پوشیدہ خوف کی سرگوشی سنائی دیتی ہو۔

خلاصہ — برمودا ٹرایینگل کا آج کا حال

آج بھی برمودا ٹرایینگل دنیا کے سب سے پراسرار اور خوفناک مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ جدید جہاز اور طیارے جدید آلات کے ساتھ یہاں گزرتے ہیں، لیکن اس کے اسرار آج بھی اپنی طاقت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں ہر لمحہ خطرہ محسوس ہوتا ہے—سمندر کی ہر لہر میں چھپی توانائیاں، ہوا میں غیر معمولی سکون اور خوف کا ملا جلا اثر، اور کمپاس و آلات کی اچانک بے حسی—یہ سب بتاتے ہیں کہ یہ ٹرایینگل محض پانی کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک زندہ، پراسرار اور خوفناک