اسٹنگر میزائل جس نے روس-افغان جنگ کا نقشہ بدل دیا

اسٹنگر میزائل جس نے روس-افغان جنگ کا نقشہ بدل دیا

افغانستان 1980 کی دہائی کا افغانستان دنیا کی طاقتوں کے درمیان ایک ایسی شطرنج کی بساط بن چکا تھا۔ سوویت یونین اپنی فوجیں لے کر افغانستان میں داخل ہوا تاکہ کمیونزم کو مضبوط کیا جا سکے، مگر یہ قدم مغربی دنیا خصوصاً امریکہ کے لیے خطرے کی گھنٹی تھا۔ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے فرنٹ لائن اتحادی بنا اور امریکی مفادات کے لیے مرکزی کردار ادا کرنے لگا۔ افغان مجاہدین کو ایک "مقدس جنگجو" کے طور پر پیش کیا گیا اور دنیا بھر سے جنگجو ان کے ساتھ شامل ہونے لگے۔ اس مضمون میں ہم افغان جنگ اور اسٹنگر میزائل کے کردار پر تفصیل سے بحث کریں گے۔

🎯 اسٹنگر میزائل کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

ابتدائی برسوں میں افغان مجاہدین کے پاس جدید ہتھیاروں کی شدید کمی تھی؛ زیادہ تر جنگجو روایتی رائفلز، شاٹ گن اور پرانے راکٹ لانچرز پر انحصار کرتے تھے۔ اس دوران سوویت ہیلی کاپٹر خصوصاً Mi-24 “ہِند” نے میدانِ جنگ میں خوف و ہراس پھیلا دیا، مضبوط آرمر، گیندہ نما 23mm توپ، غیر رہنمائی شدہ راکٹز اور متعدد مشین گنز کے ساتھ، اور اس میں چند سپاہی بھی سوار کیے جا سکتے تھے، اس طرح یہ حملہ اور فورس ٹرانسفر دونوں کر سکتا تھا۔

سنہ 1986 کے بعد جب اسٹنگر میزائلز مجاہدین تک پہنچنے لگے تو منظرنامہ بدل گیا۔ یہ کندھے سے فائر ہونے والا انفراریڈ-ہومنگ ہتھیار چند سیکنڈوں میں گرمی کے ذریعہ ہدف کو لاک کر لیتا اور نسبتاً قریبی رینج میں طیارہ یا ہیلی کاپٹر کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ Mi-24 جیسی بڑی، بھاری اور حرارتی نشانات رکھنے والی ہیلی کاپٹروں کے لیے اسٹنگر خاص طور پر خطرناک ثابت ہوا

کیونکہ انجن اور ایگزاسٹ سے نکلنے والی حرارت آسانی سے میزائل کے ہومنگ سسٹم کو متاثر کرتی تھی۔ نتیجتاً سوویت پائلٹس اور کمانڈرز نے اپنی پروازوں کے اوقات، بلندی اور آپریشن کے انداز میں واضح تبدیلیاں کیں۔

🚀 اسٹنگر میزائل کیا ہے؟ — مکمل تعارف

اسٹنگر میزائل ایک کندھے سے چلنے والا انفراریڈ گائیڈڈ ہتھیار ہے جسے ایک سپاہی آسانی سے استعمال کر سکتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ خود اپنے ہدف کو تلاش کر کے نشانہ بناتا ہے۔ یعنی ایک بار فائر کرنے کے بعد نشانے کو دیکھنا یا کنٹرول کرنا ضروری نہیں۔ اس کی رینج تقریباً 5 کلومیٹر تک ہے، اور یہ طیارے یا ہیلی کاپٹر کے انجن سے نکلنے والی گرمی کو فالو کر کے تباہ کن دھماکہ کرتا ہے۔ 1986 میں جب یہ میزائل مجاہدین کے ہاتھ لگا، تو جنگ کا نقشہ بدل گیا۔

💣 سوویت فوج کے لیے اسٹنگر کیسے خوف کی علامت بن گیا

اسٹنگر میزائل نے افغانستان کی لڑائی میں وہ کردار ادا کیا جو کسی واحد ہتھیار سے توقع کرنا مشکل تھا۔ ابتدائی طور پر مجاہدین فضائی خطرات کے سامنے محض ہدف بنے ہوئے تھے؛ سوویت ہیلی کاپٹر اور طیارے اُن کے خلاف تقریباً بے خوفانہ انداز میں کارروائیاں کرتے تھے۔ مگر جب اسٹنگر نما چھوٹے مگر ہلاکت خیز ہتھیار مجاہدین کے ہاتھ آئے تو حالات ایک دم بدل گئے۔

نتیجے کے طور پر فضائی بالادستی کی روایتی کہانی متاثر ہوئی؛ جہاں پہلے فضائی قوت نے برتری دکھائی، وہاں اب زمین پر کھڑے مجاہدین بھی آسمان کے خلاف لڑنے کے قابل ہو گئے۔ ایک عام اندازے میں تقریباً دو سو ساٹھ سے تین سو

کے قریب طیارہ/ہیلی کاپٹر تباہ ہونے کی بات کی جاتی ہے۔ یہ اعداد و شمار بالکل قطعی نہیں بلکہ مختلف ذرائع کے اوسط ہیں، مگر ان کی سمت واضح تھی: فضائی نقصانات میں واضح اضافہ ہوا۔

تکنیکی اعتبار سے اسٹنگر نے ہیلی کاپٹرز کو خصوصی خطرہ بنا دیا۔ Mi-24 جیسے گن شپ جو پہلے تقریبا ناقابلِ تسخیر سمجھے جاتے تھے، اب نشانہ بن رہے تھے۔ بعض روسی اور افغان پائلٹس نے بعد از جنگ بیانات میں کہا کہ انھیں فلیئرز (decoy flares) اور مخصوص مانورز اپنانے پڑے تاکہ اسٹنگر کے تھرمل ہومنگ کو بے اثر کیا جا سکے۔

🧩 کیا اسٹنگر نے جنگ جیت لی یا صرف داستان بدلی؟

یہ سوال تاریخی بحث کا موضوع ضرور ہے، مگر جس انداز میں اسٹنگر نے جنگ کے توازن کو تبدیل کیا وہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسٹنگر محض ایک ہتھیار نہیں رہا — یہ ایک ایسا قوتِ ارادی عنصر بن گیا جس نے فوری طور پر سوویت فضائی بالادستی کو چیلنج کیا۔ اگرچہ سوویت انخلا کے پیچھے اقتصادی، سیاسی اور جغرافیائی وجوہات بھی تھیں، مگر اسٹنگر وہ متحرک عنصر تھا جس نے ان عوامل کو عملی طور پر قابلِ محسوس نقصان میں بدل دیا۔

آخر کار، اسٹنگر کی شمولیت نے ثابت کیا کہ جدید ہتھیار، وقتی اور مہارت کے ساتھ استعمال ہوں تو چھوٹا سا آلہ بھی بڑے تاریخی نتائج کا باعث بن سکتا ہے — اس لحاظ سے اسٹنگر نے نہ صرف داستان بدلی بلکہ اس داستان کو عملی انجام تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

افغان جنگ ایک قدیم گناہ تھا جو میرے پیش روؤں نے مجھے سونپ دیا۔

"مائیکل گورباچوف"