ایک دہائی کی خونریز لڑائی - افغانستان اور سوویت یونین جنگ کی کہانی

ایک دہائی کی خونریز لڑائی - افغانستان اور سوویت یونین جنگ کی کہانی

سنہ 1979 سے 1989 تک جاری رہنے والی سوویت–افغان جنگ نہ صرف افغانستان کی تاریخ کا ایک اہم باب تھی بلکہ عالمی سیاست اور سرد جنگ (Cold War) کے تناظر میں بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ اس وقت افغانستان میں جنرل محمد داود خان کے قتل کے بعد سیاسی انتشار عروج پر تھا، اور ملک میں حفیظ اللہ امین کی قیادت میں کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی، جسے سوویت یونین کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔

دوسری طرف، افغانستان کے دیہی علاقوں اور پہاڑی علاقوں میں قبائلی اور مذہبی مزاحمت زور پکڑ رہی تھی۔ امریکہ نے مجاہدین کو CIA کے ذریعے مالی اور عسکری مدد اور پاکستان کے ISI نے انہیں تربیت اور اسلحہ فراہم کیا، تاکہ سوویت یونین کے اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکے۔ اس مضمون کا مقصد جنگ کے واقعات کے ساتھ ساتھ اس کے پس منظر، اسباب اور انسانی و سیاسی اثرات کو بھی اجاگر کرنا ہے۔

جنگ کے اسباب

سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت کے کئی اسباب تھے، جو عالمی سیاست اور داخلی مسائل دونوں سے جڑے ہوئے تھے۔ سب سے بڑا سبب افغانستان میں قائم کمیونسٹ حکومت کی حمایت تھی، جس کی قیادت حفیظ اللہ امین کر رہے تھے۔ سوویت یونین نے حکومت کو مضبوط کرنے اور اپنے کمونسٹ اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے فوجی مداخلت کا فیصلہ کیا۔

اندرونی سیاست بھی جنگ کی ایک اہم وجہ تھی۔ افغانستان میں سیاسی عدم استحکام، مختلف قبائلی گروہوں کی علیحدہ شناخت، اور حکومت کے اندرونی اقتدار کے لیے مسلسل کشمکش جاری تھی۔ مزاحمتی تنظیمیں، جنہیں عام طور پر مجاہدین کہا جاتا ہے، اور مقامی قبائلی گروہ سوویت حمایت یافتہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔

اہم واقعات - سال بہ سال

1979

سنہ 19 دسمبر 1979 کو سوویت یونین نے افغانستان میں مکمل فوجی مداخلت کی تاکہ کمیونسٹ حکومت کی حمایت کی جا سکے۔ اس دوران ہزاروں سوویت فوجی کابل اور دیگر اہم شہروں میں پہنچے۔ Operation Storm-333 کے تحت سوویت کمانڈوز نے حفیظ اللہ امین کے محل پر حملہ کیا، انہیں ہلاک کیا اور ببرک کارمل کو اقتدار میں لایا۔ اس واقعے نے سوویت–افغان جنگ کا باقاعدہ آغاز کیا اور سرد جنگ کے دوران عالمی سیاست میں کشیدگی پیدا کی۔

1980

سنہ 1980 میں افغان مزاحمتی گروہ یعنی

مجاہدین نے پہاڑی علاقوں میں پہلے بڑے گوریلا حملے شروع کیے۔ اس دوران احمد شاہ مسعود اور جلل الدین حقانی جیسے رہنماؤں نے اپنی قیادت میں مقامی فورسز کو منظم کیا۔ امریکہ، پاکستان اور سعودی عرب نے مجاہدین کو ہتھیار، تربیت اور مالی مدد فراہم کرنا شروع کی، جس سے یہ جنگ سرد جنگ کا ایک اہم محاذ بن گئی۔

1981

سنہ 1981 میں سوویت افواج نے Kunar اور Nuristan صوبوں میں بڑے آپریشنز کیے، جہاں مجاہدین کے مضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران سوویت افواج نے Mi-24 attack helicopters استعمال کیے، جو زمینی حملوں میں شدت اور خوف پیدا کرنے کے لیے معروف تھے۔ تاہم، مجاہدین کی مقامی حمایت اور پہاڑی علاقوں کی گوریلا حکمت عملی کی وجہ سے سوویت فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اسی دوران لاکھوں افغان شہری Iran اور Pakistan میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے، جو انسانی بحران کی ابتدا تھی۔

1982–1984

سنہ 1982 سے 1984 تک جنگ میں شدت آ گئی۔ سوویت افواج نے دیہی علاقوں اور پہاڑی گاؤں پر فضائی بمباری کی، جس میں Mi-24 helicopters کی اہمیت نمایاں رہی، کیونکہ یہ نہ صرف زمینی اہداف کو نشانہ بناتے بلکہ خوف اور دباؤ بھی پیدا کرتے تھے۔ جلال آباد، قندھار اور پنج شیر میں کئی بڑے محاذ پر لڑائیاں ہوئیں، جہاں مجاہدین نے سوویت قافلوں کو بار بار نشانہ بنایا۔

1985

سنہ 1985 میں مجاہدین نے جلال آباد کی لڑائی میں اہم کامیابی حاصل کی، جس میں سوویت نواز افواج کو بھاری نقصان ہوا۔ امریکہ نے اس دوران مجاہدین کو Stinger missiles فراہم کرنا شروع کیے، جس سے وہ سوویت ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کو مؤثر طور پر نشانہ بنانے لگے۔ اس کے علاوہ، مجاہدین نے پہاڑی علاقوں میں ambushes اور گوریلا حملوں کو بھی مؤثر طریقے سے استعمال کیا، جس سے سوویت فوج کی فضائی اور زمینی حکمت عملی دونوں پر دباؤ بڑھ گیا۔

1986–1988

سنہ 1986 سے 1988 تک سوویت افواج نے متعدد بڑے آپریشنز کیے، لیکن مجاہدین کی گوریلا حکمت عملی اور مقامی حمایت کی وجہ سے انہیں فیصلہ کن فتح حاصل نہ ہو سکی۔ اس دوران لاکھوں شہری پناہ گزین بن گئے، بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا اور انسانی بحران شدت اختیار کر گیا۔

1989

سنہ 1989 میں سوویت یونین نے مسلسل جانی

و مالی نقصان کے بعد افغانستان سے اپنی افواج واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔ انخلا کے بعد بھی افغانستان میں خانہ جنگی جاری رہی، اور ملک سیاسی طور پر غیر مستحکم رہا، جس کے اثرات آنے والے کئی سالوں تک محسوس کیے گئے۔

سوویت–افغان جنگ کے اثرات اور نتائج

افغانستان پر اثرات:

سنہ 1979–1989 تک جاری اس جنگ نے افغانستان کے انسانی، سماجی اور سیاسی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اندازاً 1–2 million+ Afghan civilians ہلاک اور لاکھوں زخمی ہوئے، جبکہ تقریباً 5–6 million Afghan refugees ایران اور پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے، جس سے دنیا کا سب سے بڑا پناہ گزین بحران پیدا ہوا۔ بنیادی ڈھانچے، تعلیمی اداروں اور زراعت کو شدید نقصان پہنچا اور لاکھوں خاندان بے گھر ہو گئے۔ مجاہدین اور دیگر مقامی گروہوں کی طاقت میں اضافہ ہوا، جس سے بعد میں خانہ جنگی اور شدت پسندی کا آغاز ہوا۔

روس اور عالمی سیاست پر اثرات:

سوویت یونین کی ناکام مداخلت نے اس کی اقتصادی اور فوجی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا۔ جنگ کے دوران سوویت افواج کو تقریباً 150,000 soldiers کے نقصانات اٹھانے پڑے اور بھاری فوجی سازوسامان، ہتھیار اور ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ، لاکھوں ڈالر کی مالی لاگت اور انسانی جانوں کا ضیاع اس کی Cold War میں عالمی پوزیشن کو کمزور کرنے والا ثابت ہوا، جو بالآخر Soviet collapse 1991 میں اہم کردار ادا کرنے والا رہا۔ علاوہ ازیں، افغانستان میں فراہم کردہ ہتھیار اور تربیت نے خطے میں انتہا پسند گروہوں کی طاقت میں اضافہ کیا، جو آنے والے سالوں میں علاقائی چیلنج بن گئے اور آج کے افغانستان میں جاری سیاسی عدم استحکام اور قبائلی و عسکری گروہوں کے اثر و رسوخ کی بنیاد رکھتے ہیں۔

اختتامی کلمات

سنہ 1979–1989 کی سوویت–افغان جنگ نہ صرف ایک طویل اور خونریز تصادم تھی بلکہ اس نے افغانستان اور عالمی سیاست پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔ سوویت یونین نے بھاری انسانی اور مالی نقصان اٹھایا، جس نے اس کی عالمی پوزیشن کو کمزور کیا۔ افغانستان میں پیدا شدہ سیاسی عدم استحکام، شدت پسندی، اور قبائلی و عسکری گروہوں کی طاقت آج بھی خطے کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے، جو یہ واضح کرتی ہے کہ ایک دہائی کی جنگ کے اثرات کئی نسلوں تک محسوس کیے