اندرا گاندھی: بنگلہ دیش سے آپریشن بلیو اسٹار تک، طاقت، جبر اور خوفناک انجام کی تفصیلی کہانی
اندرا گاندھی بھارت کی تاریخ کی سب سے طاقتور اور متنازع رہنماؤں میں شمار ہوتی ہیں۔ وہ ملک کی واحد خاتون وزیرِ اعظم تھیں۔ انھوں نے بھارت کو ایٹمی طاقت بنایا، بنگلہ دیش کے قیام میں اہم کردار ادا کیا اور عالمی سطح پر ایک خودمختار بھارت کا تصور مضبوط کیا۔ مگر ان کے فیصلوں نے جمہوریت اور آزادیٔ اظہار پر کئی سوالات بھی کھڑے کیے۔ کچھ کے نزدیک وہ “بھارت ماتا” تھیں، تو کچھ کے لیے ایک آمر۔ آج، دہائیاں گزرنے کے باوجود، ان کا نام طاقت، قیادت اور سیاست کی پیچیدگیوں کی علامت ہے۔ آئیے، ان کی زندگی اور وراثت پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
نہرو کی بیٹی سے "آئرن لیڈی آف انڈیا" تک
اندرا پریہ درشنی نہرو 19 نومبر 1917 کو الہ آباد میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد پنڈت جواہر لال نہرو بھارت کے پہلے وزیرِ اعظم تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم الہ آباد اور پونا میں حاصل کی، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے وشوا بھارتی (شانتی نکیتن)، آکسفورڈ اور سومرویل کالج (برطانیہ) میں تعلیم حاصل کی۔ ان کے تعلیمی سفر نے ان میں عالمی سوچ، مضبوط ارادہ اور سیاسی فہم پیدا کی۔ ان کی پرورش اور تعلیم نے انھیں ایک ایسی رہنما بنایا جو قسمت اور حالات دونوں کے ہاتھوں چنی گئی تھی۔
کانگریس کی شہزادی کا سیاست میں قدم
آزادی کے بعد اندرا گاندھی نے آہستہ آہستہ کانگریس پارٹی میں قدم رکھا۔ ابتدا میں وہ اپنے والد کی معاون کے طور پر سامنے آئیں لیکن جلد ہی پارٹی میں اپنی پہچان بنانے لگیں۔ 1959 میں وہ کانگریس کی صدر بن گئیں۔ 1966 میں لال بہادر شاستری کے انتقال کے بعد انھیں وزیراعظم منتخب کیا گیا۔ ابتدا میں بزرگ رہنما انھیں کمزور سمجھتے تھے، مگر اندرا نے جلد ہی سب کو غلط ثابت کر دیا۔
نئی وزیرِ اعظم کا حیران کن آغاز
وزیرِ اعظم بننے کے بعد اندرا گاندھی نے معیشت کو بدلنے کے بڑے فیصلے کیے۔ انھوں نے بینکوں کو قومی ملکیت میں لیا، زرعی اصلاحات کیں اور نعرہ دیا: “غریبی ہٹاؤ”۔ ان کے جرات مندانہ فیصلوں نے انھیں عوام کی آواز بنا دیا۔ تاہم، حزبِ اختلاف نے ان پر الزام لگایا کہ وہ ساری طاقت اپنے ہاتھ میں سمیٹ رہی ہیں۔ وہ خاموش لڑکی جسے کبھی “گونگی گڑیا” کہا گیا تھا، اب بھارت کی سب سے طاقتور آواز بن چکی تھی۔
بنگلہ دیش کی جنگ — بھارت کی فتح
سنہ 1971 کی جنگ اچانک نہیں بلکہ ایک

ایمرجنسی — جمہوریت پر تالہ
سنہ 1975 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اندرا گاندھی کے انتخاب کو انتخابی بے ضابطگیوں کے باعث غیر قانونی قرار دیا، جس سے ان کی وزارتِ عظمیٰ خطرے میں پڑ گئی۔ اس فیصلے کے فوراً بعد، اندرا نے 25 جون 1975 کو پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی — ایک ایسا قدم جس نے بھارت کی جمہوریت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ آئین کے آرٹیکل 352 کے تحت ملک میں شہری آزادیوں کو معطل کر دیا گیا، ہزاروں سیاسی رہنماؤں، صحافیوں اور طلبہ کارکنوں کو بغیر مقدمے کے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔
زوال — اندرا کی شکست
سنہ 1977 کے انتخابات میں عوام نے اندرا گاندھی کو سخت سزا دی۔ کانگریس بری طرح ہار گئی اور اندرا کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ مگر وہ ہار ماننے والی نہیں تھیں۔ شکست کے بعد انھوں نے ملک بھر کا سفر کیا، عوام سے دوبارہ رابطہ قائم کیا اور اپنی امیج کو بہتر بنایا۔ ان کا حوصلہ اور سیاست میں دوبارہ ابھرنے کی صلاحیت نے سب کو حیران کر دیا۔
دوبارہ عروج — اندرا کی واپسی
سنہ 1980 میں اندرا گاندھی نے زبردست انداز میں واپسی کی۔ انھوں نے “کانگریس (آئی)” کے نام سے نئی شاخ بنائی اور بھاری اکثریت سے انتخابات جیت لیے۔ لیکن اسی سال ان کے بیٹے سنجے گاندھی ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ یہ سانحہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ تھا۔ وہ ایک بار پھر اکیلی رہ گئیں، مگر پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سیاست میں واپس آئیں۔
آپریشن بلیو اسٹار — خون آلود فتح
سنہ 1984 میں پنجاب میں خالصتان تحریک اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ اس تحریک کا مقصد بھارت سے الگ ایک آزاد “سکھ ریاست — خالصتان” قائم کرنا تھا۔ مسلح باغیوں نے امرتسر کے گولڈن ٹیمپل (در بار صاحب) کو اپنا مورچہ بنا لیا تھا، جس کی

31 اکتوبر 1984 — وہ دن جب بھارت رک گیا
آپریشن بلیو اسٹار کے چند مہینے بعد ہی 31 اکتوبر 1984 کو اندرا گاندھی کو ان کے اپنے سکھ محافظوں نے گولی مار کر قتل کر دیا۔ ان کے قتل نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ دہلی سمیت کئی شہروں میں خوفناک فسادات پھوٹ پڑے اور ہزاروں لوگ مارے گئے۔ ان کی موت صرف ایک رہنما کا انجام نہیں تھی، بلکہ ایک عہد کا خاتمہ تھی۔ بعد میں ان کے بیٹے راجیو گاندھی وزیرِ اعظم بنے۔
اندرا گاندھی — طاقت، قربانی اور تنقید کی علامت
اندرا گاندھی کی شخصیت عزت، طاقت اور تنازع کا ایک مجموعہ تھی۔ وہ بھارت کی خود مختاری، ترقی اور فخر کی علامت بنیں، مگر ان کی حکومت کو آمریت، سنسرشپ اور جبر کے الزامات نے بھی گھیرے رکھا۔ ایک طرف انھوں نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا اور عالمی سطح پر مضبوط مقام دلایا، تو دوسری طرف ایمرجنسی اور آپریشن بلیو اسٹار جیسے فیصلوں نے ان کی میراث کو متنازع بنا دیا۔ ذاتی زندگی میں وہ ایک دردناک کہانی کی حامل تھیں — شوہر کی موت، بیٹے کا حادثہ، اور تنقید نے انھیں اندر سے کمزور کیا، مگر وہ ہمیشہ فولادی ارادے کے ساتھ ڈٹی رہیں۔ اندرا گاندھی نے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا کو دکھایا کہ ایک عورت اقتدار کی اونچائیوں تک پہنچ سکتی ہے — لیکن اس طاقت کی قیمت ہمیشہ قربانی، تنہائی اور تنقید کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔