ہمالیہ کا وہ گاؤں جہاں لوگ سو کر جاگتے نہیں نیند کا لعنتی مرض

ہمالیہ کا وہ گاؤں جہاں لوگ سو کر جاگتے نہیں نیند کا لعنتی مرض

کہانی کی شروعات — نیند جو موت بن گئی

دنیا کے بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان، ہمالیہ کے دامن میں ایک ایسا گاؤں چھپا ہے جس کے بارے میں سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ گاؤں اپنی دلکش وادیوں یا برف پوش چوٹیوں کے لیے نہیں، بلکہ ایک ایسے لعنتی مرض کے لیے مشہور ہے جو انسان کو ہمیشہ کی نیند سلا دیتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں لوگ سوتے ہیں… مگر جاگتے نہیں۔

یہ سب تقریباً چالیس سال پہلے، نیپال اور بھارت کی سرحد کے قریب واقع ہمالیائی گاؤں “کھیمونگ” میں شروع ہوا، جب گاؤں کے چند لوگ ایک پراسرار بیماری میں مبتلا ہونے لگے۔ شروع میں سب نے سمجھا کہ شاید یہ تھکن یا پہاڑی سردی کا اثر ہے، مگر پھر ایک کے بعد ایک لوگ سو کر نہ جاگے۔

پہلا واقعہ ایک کسان تیپ لاما کے بیٹے نورَن کے ساتھ پیش آیا۔ وہ دن بھر کھیتوں میں کام کے بعد معمول کے مطابق سو گیا۔ صبح جب اس کی ماں نے اسے جگانے کی کوشش کی تو وہ مسکراتا ہوا چپ چاپ پڑا تھا, سانس بند، مگر چہرے پر عجیب سا سکون۔ اگلے ہفتے دو اور نوجوان پیمبا شیراپا اور سونم گیالپو بھی اسی طرح سو کر نہ جاگے۔ نہ بخار، نہ درد، نہ کوئی زخم۔ بس ایک گہری نیند جو زندگی کا آخری لمحہ بن گئی۔ لوگوں نے کہنا شروع کیا:

'یہ نیند نہیں، کوئی سایہ ہے جو روح کو چرا لیتا ہے…'

پہاڑوں کے سائے میں چھپا راز

گاؤں میں خوف کا

سایہ چھا گیا۔ رات ہوتے ہی سب جاگتے رہنے لگے، بچے اپنی ماؤں سے لپٹ کر روتے، اور بوڑھے دعائیں پڑھتے۔ اس دن کے بعد “نیند” اس گاؤں کے لیے سب سے بڑی دشمن بن گئی۔ اب تک اندازاً 70 سے زائد لوگ اس پراسرار نیند کا شکار ہو چکے ہیں — اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کسی ایک بھی کیس کی حقیقی وجہ آج تک سامنے نہیں آ سکی۔

یہ گاؤں نیپال اور بھارت کی سرحد کے قریب، ہمالیہ کے ایک ایسے علاقے میں ہے جہاں سارا سال برف پڑی رہتی ہے۔ وہاں تک پہنچنا آسان نہیں۔ تنگ راستے، کھائیوں کے کنارے اور بے آواز فضا۔ یہاں کے لوگوں کی زندگی سادہ ہے: لکڑی کے گھر، مٹی کے چولہے، اور ہر صبح پہاڑ کی چوٹی سے اترتی دھند۔

مقامی عقائد — دیوتاؤں کی ناراضی یا بددعا؟

مگر ان کے لیے اصل خوف وہ لمحہ ہے جب سورج غروب ہوتا ہے۔ جب اندھیرا چھانے لگتا ہے تو پورے گاؤں پر ایک عجیب خاموشی طاری ہو جاتی ہے۔ کوئی بات نہیں کرتا، کوئی سوتا نہیں۔ کیونکہ یہاں آنکھ بند کرنا قسمت آزمانے کے برابر ہے۔

جاگنے کے لیے لوگ طرح طرح کے طریقے اختیار کرتے ہیں۔ کوئی کالی چائے میں تیز مرچیں ڈال کر پیتا ہے تاکہ نیند آنکھوں سے کوسوں دور رہے، کوئی رات بھر آگ کے الاؤ کے پاس بیٹھ کر لکڑیاں توڑتا رہتا ہے۔ بوڑھے مرد اور عورتیں ہاتھوں میں منکیاں لیے منتر پڑھتے ہیں، جبکہ نوجوان ڈھول پیٹ کر یا لوک گیت گا کر ایک دوسرے کو جگائے

رکھتے ہیں۔ ماؤں کی آنکھوں میں نیند سے زیادہ خوف ہوتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کے چہروں پر ہاتھ پھیر کر کہتی ہیں، "بیٹا، آنکھ بند نہ کرنا… یہاں نیند موت بن جاتی ہے۔"

علامات — ایک خطرناک خاموشی سے پہلے کی خاموشی

ابتدا میں مریض ہلکی سی تھکن، سر چکرانے، اور دل گھبرانے کی شکایت کرتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ نیند کا دباؤ بڑھنے لگتا ہے۔ وہ دن کے وقت بھی اونگھنے لگتا ہے، جیسے دماغ خود بند ہو رہا ہو۔ آخرکار ایک دن وہ سو جاتا ہے… اور پھر کبھی نہیں جاگتا۔ اس کا جسم بالکل نارمل، چہرے پر سکون، جیسے کوئی گہری نیند میں ہو۔ نہ سانس تیز، نہ کوئی درد — صرف ایک خاموش موت۔

علاج کی تلاش — مگر وقت کم ہے

اب دنیا کے کئی ممالک کے سائنسدان اس مرض پر تحقیق کر رہے ہیں۔ اسے 'ہمالین سلیپ سینڈروم' کہا جاتا ہے، مگر علاج تاحال نامعلوم ہے۔ کچھ ڈاکٹروں نے مصنوعی روشنی اور مخصوص ادویات سے مریضوں کو جاگتا رکھنے کی کوشش کی، مگر ناکام رہے۔

اختتام — وہ نیند جو سکون نہیں دیتی

دنیا میں نیند کو سکون، راحت اور رحمت کہا جاتا ہے۔ مگر ہمالیہ کے اس گاؤں کے لیے یہ ایک لعنت ہے۔ یہاں ہر رات کا اندھیرا صرف اندھیرا نہیں بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ صبح ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ یہ گاؤں اب بھی خاموش ہے، برف اب بھی گرتی ہے، مگر وہاں کے لوگ جاگتے رہتے ہیں… کیونکہ ایک پل کی نیند، ہمیشہ کی نیند بن سکتی ہے۔