JF-17 تھنڈر - F-16 اور Gripen کا حقیقی متبادل - ٹیکنیکل خصوصیات، خریدار ممالک اور تصاویر

        JF-17 تھنڈر - F-16 اور Gripen کا حقیقی متبادل - ٹیکنیکل خصوصیات، خریدار ممالک اور تصاویر

اکیسویں صدی میں جب جدید جنگی طیارے اربوں ڈالر کی لاگت اور سخت سیاسی پابندیوں کے ساتھ فروخت کیے جا رہے ہیں، ایسے میں JF-17 تھنڈر صرف ایک تصور نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت بن چکا ہے۔ آج یہ طیارہ پاکستان فضائیہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ نائجیریا اور میانمار جیسے ممالک اسے عملی جنگی اور سکیورٹی آپریشنز میں استعمال کر رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ متعدد دیگر ممالک، جن میں آذربائیجان، سعودی عریبیہ، لیبیا، سوڈان، ارجنٹینا اور عراق جیسے نام شامل کیے جاتے ہیں، مختلف مراحل میں JF-17 میں دلچسپی یا اس کے حصول پر غور کر چکے ہیں۔

آخر JF-17 میں ایسا کیا ہے جو اسے نہ صرف استعمال کرنے والے ممالک کے لیے قابلِ اعتماد بناتا ہے بلکہ نئے خریداروں کے لیے بھی ایک پرکشش انتخاب بنا رہا ہے؟ آج ہم اسی سوال کا تفصیلی جائزہ لیں گے کہ JF-17 تھنڈر آخر کیوں دنیا کی توجہ اپنی جانب کھینچنے میں کامیاب ہوا ہے۔

ٹیکنیکل برتری، Avionics، Radar، Weapons

JF-17 تھنڈر جدید ایویانکس، ہمہ جہت ریڈار سسٹمز اور متنوع ہتھیاروں کی صلاحیت کے باعث اپنی کلاس میں ایک منفرد لڑاکا طیارہ بن چکا ہے۔ جدید بلاک تھری میں نصب AESA ریڈار نہ صرف طویل فاصلے تک اہداف کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ بیک وقت 15 فضائی اہداف کو ٹریک اور 04 کو انگیج کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، جو جدید فضائی جنگ میں فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔

ڈیجیٹل فلائی بائی وائر سسٹم، جدید کاک پٹ (Glass Cockpit)، ہیلمٹ ماؤنٹڈ ڈسپلے اور نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر کی صلاحیت اسے زمینی، فضائی اور بحری پلیٹ فارمز کے ساتھ مؤثر رابطے کے قابل بناتی ہے۔

ہتھیاروں کے معاملے میں JF-17 کی سب سے بڑی طاقت اس کی لچک ہے۔ یہ طیارہ چینی، یورپی اور ضرورت پڑنے پر امریکی ساختہ ہتھیاروں کو بھی اپنے نظام میں ضم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو اسے ایک حقیقی ’’اوپن آرکیٹیکچر‘‘ پلیٹ فارم بناتا ہے۔

JF-17 بی وی آر میزائل، شارٹ رینج ڈاگ فائٹ میزائل، اسمارٹ اور لیزر گائیڈڈ بم، اینٹی شپ میزائل اور جدید الیکٹرانک وارفیئر پوڈز لے

جا سکتا ہے، جس سے یہ فضائی برتری، زمینی حملوں اور بحری اہداف کے خلاف یکساں طور پر مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ تکنیکی ارتقاء اور مسلسل اپ گریڈیشن کے باعث JF-17 اب محض ایک سستا متبادل نہیں بلکہ ایک مکمل ملٹی رول جنگی پلیٹ فارم کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

JF-17 بمقابلہ F-16 اور Gripen

اگر JF-17 تھنڈر کا موازنہ امریکی F-16 اور سویڈن کے Gripen جیسے معروف جنگی طیاروں سے کیا جائے تو تصویر محض تکنیکی نہیں بلکہ اسٹریٹجک اور معاشی پہلوؤں میں بھی واضح ہو جاتی ہے۔

F-16 اپنی ثابت شدہ جنگی تاریخ، طاقتور انجن اور اعلیٰ کارکردگی کے باعث ایک مؤثر پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کی سب سے بڑی کمزوری اس پر عائد سیاسی پابندیاں، مہنگی مینٹیننس اور ہتھیاروں کے محدود اختیارات ہیں۔

اسی طرح Gripen جدید ایویانکس، کم آپریشنل لاگت اور نیٹ ورک سینٹرک صلاحیتوں کے باوجود قیمت، محدود پیداوار اور برآمدی شرائط کے باعث ہر ملک کے لیے قابلِ عمل انتخاب نہیں۔

اس کے برعکس JF-17 ایک ایسا متوازن حل پیش کرتا ہے جو نسبتاً کم قیمت، آسان دیکھ بھال اور ہتھیاروں کے وسیع انتخاب کے ساتھ خریدار ملک کو زیادہ خودمختاری فراہم کرتا ہے۔

حقیقی جنگی استعمال کی مثالیں

JF-17 تھنڈر محض کاغذی صلاحیتوں تک محدود نہیں بلکہ عملی فضائی آپریشنز میں بھی اپنی مؤثریت ثابت کر چکا ہے۔ پاکستان فضائیہ نے اسے انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں، فضائی نگرانی اور زمینی اہداف کے خلاف درست حملوں میں کامیابی سے استعمال کیا، جہاں اس کی درستگی، فوری ردِعمل اور کم آپریشنل لاگت نمایاں رہی۔

فروری 2019 کے بعد کے فضائی ماحول میں JF-17 کی تعیناتی نے یہ واضح کر دیا کہ یہ طیارہ جدید جنگی حالات میں قابلِ اعتماد کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خصوصاً جب بات الیکٹرانک وارفیئر، ہدف کی بروقت نشاندہی اور نیٹ ورک کے ذریعے معلومات کے تبادلے کی ہو۔

اس کے علاوہ نائجیریا اور میانمار جیسے ممالک میں بھی JF-17 کو عملی کارروائیوں، فضائی دفاع اور داخلی سلامتی کے مشنز میں استعمال کیا گیا، جہاں اس نے اپنی افادیت ثابت کی۔

قیمت بمقابلہ کارکردگی

(Cost vs Performance)

عالمی دفاعی منڈی میں ایک ہی نسل کے جنگی طیاروں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو JF-17 اپنی قیمت اور کارکردگی کے توازن کے باعث نمایاں نظر آتا ہے۔

اندازاً JF-17 کی فی یونٹ قیمت 25 سے 30 ملین ڈالر کے درمیان رہتی ہے، جبکہ اسی نسل کے امریکی F-16 کی قیمت مختلف ورژنز اور پیکجز کے ساتھ 65 سے 80 ملین ڈالر تک جا پہنچتی ہے۔

اسی طرح سویڈش Gripen کی لاگت بھی عموماً 60 سے 70 ملین ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ صرف خریداری ہی نہیں، بلکہ آپریشنل اخراجات میں بھی واضح فرق موجود ہے۔

JF-17 کا فی گھنٹہ فلائٹ خرچ نسبتاً کم ہے، جبکہ F-16 اور Gripen جیسے طیاروں کی مینٹیننس، اسپیئر پارٹس اور سافٹ ویئر سپورٹ مجموعی لاگت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

سیاسی آزادی اور پابندیوں سے تحفظ

JF-17 کی سب سے بڑی اسٹریٹجک طاقت اس کا سیاسی طور پر نسبتاً آزاد پلیٹ فارم ہونا ہے۔ ماضی میں کئی ممالک نے دیکھا کہ مہنگے مغربی طیارے خریدنے کے باوجود پابندیوں، اسپیئر پارٹس کی بندش اور سافٹ ویئر کنٹرول کے باعث ان کی فضائی طاقت مفلوج ہو گئی۔

JF-17 اس مسئلے کا عملی حل پیش کرتا ہے کیونکہ اس میں خریدار ملک کو ہتھیاروں کے انتخاب، اپ گریڈ اور آپریشنل فیصلوں میں زیادہ آزادی حاصل ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وہ ممالک جو اپنی دفاعی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے، JF-17 کو ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد انتخاب سمجھتے ہیں۔

اختتامیہ

آخرکار JF-17 تھنڈر کی کامیابی کا راز کسی ایک ٹیکنالوجی، ہتھیار یا قیمت میں نہیں بلکہ اس جامع حکمتِ عملی میں پوشیدہ ہے جو جدید صلاحیت، معاشی حقیقت اور سیاسی خودمختاری کو یکجا کرتی ہے۔

JF-17 نے ثابت کیا ہے کہ درست منصوبہ بندی، مسلسل اپ گریڈ اور مقامی صلاحیت پر اعتماد کے ذریعے ایک ترقی پذیر ملک بھی عالمی دفاعی منڈی میں باوقار مقام حاصل کر سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ JF-17 محض ایک جنگی طیارہ نہیں بلکہ مستقبل کی فضائی طاقت کے ایک نئے اور عملی تصور کی نمائندگی کرتا ہے۔