کہوٹہ آپریشن: پاکستانی ایٹمی پروگرام - بھارت، اسرائیل کی خفیہ سازش
سنہ 1980 کی دہائی میں مختلف خفیہ اور کھلے ذرائع میں یہ دعوے سامنے آئے کہ اسرائیل نے پاکستان کے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کو نشانہ بنانے کے لیے بھارت کے ساتھ تعاون یا مدد کی پیشکش کی تھی، اور بھارت نے بھی کہوٹہ پر ممکنہ ضرب دینے کے آپشنز پر غور کیا۔ یہ منصوبہ عراق پر اسرائیلی حملے کی مثال سے متاثر تھا لیکن مختلف فوجی، سفارتی اور اسٹریٹیجک وجوہات کی بنا پر کبھی عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
پس منظر کیا تھا Kahuta کیوں حساس تھا
کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز پاکستان کا وہ اہم ادارہ تھا جہاں اعلیٰ درجہ کے یورینیم کی افزودگی اور جوہری ہتھیاروں کے لیے ضروری اجزاء تیار کیے جا رہے تھے — خصوصاً ڈاکٹر عبد القدیر خان کی قیادت میں۔ 1970-80 کی دہائی میں مغربی اور علاقائی طاقتیں پاکستان کے جوہری پروگرام کو ایک سنگین مسئلہ سمجھتی تھیں، خاص طور پر جب عراق ری ایکٹر پر اسرائیل نے 1981 میں حملہ کیا۔ اسی نفسیات نے کہوٹہ کو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنایا۔
کیا منصوبہ تھا؟ — دعووں کا خلاصہ اور شواہد
متعدد ذرائع بتاتے ہیں کہ اسرائیل نے بھارت کو کہوٹہ پر حملے میں مدد کی پیشکش کی — تصور یہ تھا کہ اسرائیلی تکنیک اور بھارتی اڈے/رسائی مل کر کارروائی کریں، حتیٰ کہ کچھ رپورٹس میں کہا گیا کہ بھارتی جیگوار طیارے پہاڑی راستوں میں کم بلندی پر اُڑان بھر کر خفیہ حملہ کر سکتے تھے۔ تاریخی تجزیات بتاتے ہیں کہ 1980–83 کے دوران بھارت نے مختلف آپشنز پر غور کیا، مگر اندرونی سیاسی اختلافات، جوہری اسکیل کے خطرات اور مبینہ امریکی (سی آئی

🇺🇸 امریکہ کی چشمی پوشی
سنہ 1980 کی دہائی میں سرد جنگ عروج پر تھی، اور امریکہ کو افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پاکستان کی ضرورت تھی۔ اسی لیے واشنگٹن نے جانتے بوجھتے پاکستان کے جوہری پروگرام پر نرم رویہ اپنایا۔ فوجی امداد، ایف-16 معاہدے اور انٹیلیجنس تعاون جاری رکھا گیا۔ یہ "چشمی پوشی" دراصل وقتی مفاد تھی، اصولی مؤقف نہیں۔ سوویت انخلا کے بعد ہی امریکہ نے دوبارہ جوہری خدشات کو نشانہ بنایا۔
ٹائم لائن — اہم واقعات (مختصر)
سنہ 1980–1983: عراق کے اوسیراک ایٹمی ری ایکٹر پر حملہ کے بعد علاقائی اور عالمی شعور بڑھا؛ اسی عرصے میں اسرائیلی قیادت نے پاکستان کے جوہری اہداف کو روکنے کے طریقوں پر غور کیا اور بھارت کو عملی مدد کی پیشکش سے متعلق رپورٹس آئیں۔
سنہ 1983–1984: رپورٹس کے مطابق بھارت نے کچھ خفیہ رابطے کیے، اور 1984 کے قریب امریکی/دیگر بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے منصوبے کو آگے بڑھانے سے گریز کیا گیا۔
اس منصوبے کے پیچھے مفادات اور منطق
اسرائیل: علاقائی صفِ امن و خودی دفاع کے نقطۂ نظر سے ایران/عرب ممالک کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا میں جوہری توازن کو خطرناک سمجھتا تھا؛ پاکستان کے جوہری پروگرام نے اسرائیل کی تشویش بڑھائی۔
بھارت: خطے میں پاک-بھارت رقابت، اور پاکستان کے جوہری اہداف کو روکے بغیر مسلم پڑوسی کے پاس ہتھیاروں کے آنے کا خطرہ بھارت کے قومی سلامتی مفادات کے خلاف تھا؛ سیاسی طور پر بھی ایسے اقدامات کو سنبھالنا خطرناک تھا (جوہری رد عمل/بین الاقوامی ملوثیت)۔

منصوبہ کیوں منسوخ/روکا گیا؟
کئی وجوہات مل کر سامنے آتی ہیں:
اسٹریٹجک ردِ عمل کا خطرہ — کسی بھی ممکنہ حملے کے نتیجے میں پاکستان کے جوابی اقدام کا خدشہ موجود تھا۔
سیاسی اور سفارتی دباؤ — امریکہ اور دوسرے بین الاقوامی کھلاڑی ممکنہ طور پر براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس قسم کے اقدام کو روکنا چاہتے تھے۔
عملی/لاجسٹک مشکلات اور انٹیلیجنس/دیکھ بھال کے خدشات — خفیہ آپریشنوں میں ناکامی کا امکان بہت بڑا ہوتا ہے، اور ناجائز غلطی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستان کا ردِ عمل — پاکستان نے کہوٹہ کی حفاظت کے لیے فوری طور پر فضائی و زمینی دفاع مضبوط کیے: ایف-16 کیپنگ/فضائی گشت، شارٹ-رینج SAMs اور اینٹی-ایئر کیننز تعینات کیے گئے۔ زمینی سیکورٹی میں ہیوی گاڑیاں، ٹینک و بکتر بند پیٹرولنگ، سخت پرائمٹر باونڈریز اور کوارک ریکشن فورسز شامل کی گئیں۔
انہی حالات میں صدر ضیاء الحق نے نہ صرف مؤثر سفارتی چالیں چلیں بلکہ اپنی مشہور کرکٹ ڈپلومیسی اور اُس نرم مگر گونج دار وارننگ ("جنگ شروع کرنا تمہارے اختیار میں ہے، ختم کرنا نہیں") کے ذریعے ممکنہ تصادم کو ٹال دیا۔
🧭 نتیجہ — کیا یہ ’حقیقت‘ یا ’مفروضہ‘ ہے؟
مختصراً، تاریخی رپورٹس، ڈی کلاسفائیڈ انٹیلیجنس نوٹس اور صحافتی تحقیقات اس امکان کی تائید کرتی ہیں کہ اسرائیل اور بھارت کے درمیان پاکستان کے ایٹمی مرکز کہوٹہ پر حملے کی بات چیت اور منصوبہ بندی ضرور زیرِ غور آئی۔
تاہم کوئی ٹھوس، تصدیق شدہ یا عملی فوجی کارروائی کبھی وجود میں نہیں آئی — دستیاب شواہد جزوی اور بعض اوقات تضاد