سنہ 1981 - ذالفقار گروپ کی پی آئی اے جہازکی ہائی جیکنگ - ایک تاریخی المیہ
سنہ 1981 کی وہ صبح پاکستان کبھی نہیں بھول سکتا جب ایک عام سی پرواز اچانک خوف، خاموشی اور گولیاں بردار سائے کے درمیان قید ہو گئی۔ چند لمحوں میں مسافروں کا سفر رک گیا، مگر ملک کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ سکھر سے اٹھنے والی یہ چنگاری دیکھتے ہی دیکھتے ایک بین الاقوامی آگ بن گئی، جس نے ثابت کیا کہ کبھی کبھی ایک طیارہ نہیں، پوری قوم یرغمال بن جاتی ہے۔
سکھر میں ہائی جیکنگ کا آغاز
یہ ایک عام دن ہونا چاہیے تھا، مگر PK-326 کے مسافروں کے لیے قسمت نے کچھ اور طے کر رکھا تھا۔ طیارہ جیسے ہی سکھر اترا، ایئرپورٹ کی سب سے خطرناک خامی سامنے آئی—سیکیورٹی اسکینرز اُس روز خراب تھے۔ نہ سامان کی صحیح چیکنگ ہوئی، نہ مسافروں کی تلاشی، اور اسی خامی نے ایک خوفناک کھیل کے دروازے کھول دیے۔
چند نوجوان تیزی سے بغیر رکے جہاز میں چڑھے۔ جیسے ہی طیارہ دوبارہ فضا میں اٹھا، ایک ہائی جیکر اچانک کھڑا ہوا اور لمحوں میں بندوق کی نالی پورے کیبن پر تان دی۔ کپتان نے کاک پٹ سے جھانکا تو اسے سمجھ آگیا—اب یہ پرواز منزل کی نہیں، قید اور دہشت کے سفر پر جا رہی ہے۔ سکھر ایئرپورٹ کے خراب اسکینرز سے شروع ہونے والی یہ غفلت چند لمحوں میں پورے ملک کی سیکیورٹی پر سوال بن گئی۔
ہائی جیکرز کون تھے؟
PK-326 کو ہائی جیک کرنے والے تین نوجوان کوئی عام مسافر نہیں تھے، بلکہ الذوالفقار کے وہ جنگجو تھے جنہوں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا حلف لے رکھا تھا۔ ان کی قیادت کرتا تھا سلام اللہ ٹپو—دوبلا پتلا، کھچڑی داڑھی والا، تیز آنکھوں کا مالک، جس کے اندر ذاتی انتقام کی آگ بھی جل رہی تھی اور نظریاتی جنون بھی۔ اس کے دائیں بائیں اس کے دو ساتھی موجود تھے: فیاض احمد اور ارشد خان۔ فیاض کے ہاتھ میں وہ بیگ تھا جس میں اسلحہ چھپایا گیا تھا، اور ارشد خان وہ شخص تھا جس نے جہاز میں گھستے ہی مسافروں کے درمیان ایسی خاموش دہشت بچھا دی کہ سانس لینے کی آواز تک سنائی دینے لگی۔
طیارہ کابل لے جایا گیا – بحران کی شدت
ہائی جیکرز کا اصل منصوبہ سیدھا دمشق پہنچنا تھا، جہاں انہیں یقین تھا کہ بین الاقوامی سیاسی ماحول انہیں مضبوط سہارا دے گا۔ مگر جیسے ہی جہاز فضا میں بلند

یہ جملہ ہائی جیکرز کے لیے پہلا دھچکا تھا۔ اسی کشمکش میں ٹپو نے کپتان کو کابل کا رخ کرنے کا حکم دیا۔ افغانستان اس وقت سوویت اثر و رسوخ میں تھا، اور الذوالفقار کے لیے ایک قدرتی پناہ گاہ تصور ہوتا تھا۔ کابل اترتے ہی دنیا بھر کی نظروں نے پاکستان پر مرکوز ہو جانا تھا، اور یہی وہ لمحہ تھا جس نے بحران کی شدت کئی گنا بڑھا دی۔ دمشق کا خواب فیول نے روک لیا، مگر کابل نے اس واقعے کو ایسی راہ پر ڈال دیا جس نے آنے والے 13 دن پاکستان، افغانستان اور شام کے درمیان سفارتی ہنگامہ برپا کیے رکھے۔
ذوالفقار تنظیم کے مطالبات
الذوالفقار تنظیم نے PIA کے ہائی جیکرز کے ذریعے پاکستان حکومت کے سامنے جو مطالبات رکھے، وہ صرف سیاسی نہیں تھے بلکہ اُن میں کچھ ایسے افغانی قیدیوں کے نام بھی شامل تھے جنہیں ضیاء الحق دور میں "افغان ایجنٹس" کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں ان میں سے بعض کو سزائے موت بھی دی گئی۔
تنظیم کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ سفائی مشن یا 'Show Trial' میں گرفتار کیے گئے ان سیاسی کارکنوں اور افغانی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ خاص طور پر انہوں نے نعیم برلاس، رشید حسن خان کے علاوہ کابل سے تعلق رکھنے والے چند افغان نوجوانوں کے نام بھی دیے تھے جن پر الزام تھا کہ وہ پاکستان میں سیاسی مزاحمت کے لیے ذوالفقار کے ساتھ رابطے میں تھے۔
مسافروں کی حالت اور خوفناک 13 دن
PK-326 کے مسافر پورے 13 دن خوف اور بے بسی میں قید رہے۔ سب سے دلخراش لمحہ وہ تھا جب ہائی جیکرز نے مزاحمت کی کوشش کرنے والے میجر طارق رحیم کو قتل کر دیا۔ ان کی موت نے جہاز میں موجود ہر شخص کو واضح پیغام دے دیا کہ ہائی جیکرز کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ اس ایک واقعے نے کیبن میں ایسی خاموش دہشت پھیلا دی کہ باقی سفر ہر مسافر کے لیے ایک نہ ختم ہونے والا ڈراؤنا خواب بن گیا۔
قیدیوں کی رہائی اور معاہدہ
PIA کی پرواز PK-326 کی ہائی جیکنگ کے نتیجے میں ذوالفقار تنظیم اور ضیاء الحق حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت تین پاکستانی سیاسی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ ان میں رشید حسن خان، نجم

ہائی جیکرز نے اصل میں بین الاقوامی سطح پر 11 سے 15 تک قیدیوں کی فہرست دی تھی، جس میں کچھ افغانی قیدی بھی شامل تھے، مگر پاکستان نے صرف 3 قیدی چھوڑنے پر اتفاق کیا۔ معاہدہ دمشق ایئرپورٹ پر شام اور الجزائر کی ثالثی کے ذریعے ہوا۔
رہا ہونے والے قیدیوں کی زندگیوں پر اس واقعے کا گہرا اثر پڑا: تینوں افراد کو رہائی کے فوراً بعد سیاسی پناہ کے لیے دمشق اور بعد میں کابل منتقل کیا گیا جہاں انہوں نے کچھ عرصہ جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ بعد میں کئی سالوں تک یہ افراد پاکستان واپس نہیں آ سکے کیونکہ ضیاء حکومت نے انہیں دوبارہ 'سنگین سیاسی مجرم' قرار دیا تھا۔ رشید حسن خان نے افغانستان میں سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں، جبکہ نعیم برلاس نے صحافت اور لکھاری کے طور پر کام کیا اور بعد میں جلاوطنی میں ہی انتقال ہوا۔ بشیر زیدی نے بھی زندگی کا زیادہ حصہ بیرونِ ملک ہی گزارا۔ یوں ہائی جیکنگ کے نتیجے میں رہائی تو ملی، مگر یہ رہائی جلاوطنی، بداعتمادی اور مسلسل نگرانی سے بھری زندگی کا آغاز ثابت ہوئی۔
پاکستان کے لیے اثرات اور ہائی جیکنگ کا اختتام
PK-326 کی ہائی جیکنگ تو 13 دن بعد مذاکرات، رہائی، اور شام کی مداخلت کے ساتھ ختم ہوگئی، مگر پاکستان کے لیے اس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جاتے رہے۔ ضیاء حکومت نے اسے قومی سلامتی کی سب سے بڑی ناکامی قرار دے کر ملکی ایئرپورٹ سیکیورٹی کا از سرِ نو جائزہ لیا، مگر اس کے باوجود سوال یہیں ٹھہر گیا کہ ایک بھرے پرواز کو کس طرح اتنی آسانی سے ہتھیاروں سمیت فضا میں لے جایا گیا؟
افغانستان اور شام کی شمولیت نے اس واقعے کو بین الاقوامی سیاست کا موضوع بنا دیا، جبکہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے۔ اندرون ملک، اس ہائی جیکنگ نے سیاسی انتقام، ریاستی طاقت اور مسلح مزاحمت کے بیچ وہ لکیر کھینچ دی جس نے آنے والے برسوں کی سیاست کا رخ بدل ڈالا۔ طیارہ پایینہ اتر گیا، مسافر واپس گھروں کو لوٹ گئے، مگر وہ سوال آج بھی زندہ ہے: کیا یہ صرف ایک ہائی جیکنگ تھی—یا اس دور کے سیاسی زخموں کی چیخ جو آسمان تک گونج اٹھی؟