دنیا کا بدنام ترین ہیکر کیون مِٹنک - Brain Virus: پاکستان کا پہلا کمپیوٹر وائرس

  دنیا کا بدنام ترین ہیکر کیون مِٹنک - Brain Virus: پاکستان کا پہلا کمپیوٹر وائرس

یہ اصطلاح "کمپیوٹر وائرس" پہلی بار اُس وقت سامنے آئی جب کمپیوٹر انسانی زندگی کا لازمی حصہ بنتے جا رہے تھے، مگر ابھی تک زیادہ تر لوگ اس بات سے بے خبر تھے کہ مشینوں کی دنیا میں بھی بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔ 1970 کی دہائی کے آغاز میں سائنس دانوں نے مشاہدہ کیا کہ کچھ پروگرام خود کو نقل کرکے دوسروں میں سرایت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں — بالکل ویسے جیسے کوئی حیاتیاتی وائرس انسان سے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔ یہی غیر معمولی رویہ دیکھ کر محققین نے پہلی بار اس رجحان کو "وائرس" کا نام دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ٹیکنالوجی کے مستقبل میں ایک بالکل نیا اور ممکنہ طور پر خطرناک دور شروع ہوا، جس نے سائبر سیکیورٹی کی بنیاد بھی رکھی اور خوف بھی پیدا کیا۔

دنیا کا پہلا وائرس Creeper — حقیقت یا افسانہ؟

کمپیوٹر کی دنیا میں سب سے پہلے 'وائرس' کے بارے میں سننا ایک افسانوی سا تاثر دیتا ہے، لیکن حقیقت میں سب کچھ زیادہ پیچیدہ اور دلچسپ ہے۔ 1971 میں ایک تجرباتی پروگرام بنایا گیا جس کا نام تھا Creeper۔ یہ کوئی نقصان دہ کوڈ نہیں تھا، نہ ہی اس کا مقصد کمپیوٹرز کو تباہ کرنا تھا، بلکہ یہ ایک خود کو دوسرے کمپیوٹرز میں نقل کرنے والا پروگرام تھا، جو ARPANET نیٹ ورک پر چلتا تھا — جو آج کے انٹرنیٹ کا ابتدائی ورژن تھا۔ کریپر کا بنیادی کام یہ تھا کہ وہ متاثرہ کمپیوٹر کی اسکرین پر پیغام دکھاتا-

I'm the Creeper… catch me if you can!

یہ چھوٹا سا پیغام دنیا کے لیے ایک دھماکے کے مترادف تھا۔ لوگ حیران تھے کہ ایک پروگرام خود سے دوسری مشینوں میں منتقل ہو سکتا ہے، اور یوں پہلی بار یہ تصور سامنے آیا کہ کمپیوٹر بھی کسی حد تک متاثر ہو سکتا ہے — بالکل انسانی وائرس کی طرح۔ کریپر کی معصوم حرکت نے سائنس دانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اگر یہ نقصان دہ ہوتا تو پوری دنیا کس حد تک متاثر ہو سکتی تھی، اور اس لمحے نے مستقبل کے اینٹی وائرس پروگرامز کی بنیاد بھی رکھی۔

پاکستانی برادران کی ایجاد — Brain Virus

دنیا کے پہلے معروف PC وائرس کی کہانی 1986 میں پاکستان کے شہر لاہور سے شروع ہوتی ہے، جب دو بھائی امجد فاروق علوی اور باسط فاروق علوی اپنے کلینک مینجمنٹ سسٹم کی غیرقانونی کاپیوں سے تنگ آ چکے تھے۔ لوگ ان کا سافٹ ویئر خریدے بغیر کاپی کر لیتے تھے، اور اُس دور میں piracy روکنے کا کوئی مؤثر طریقہ نہیں تھا۔ اسی مسئلے کا حل سوچتے ہوئے دونوں بھائیوں نے ایک ایسا پروگرام تیار کیا جو صارف کو یہ احساس دلائے کہ اس کی استعمال کردہ ڈسک pirated ہے — یہی پروگرام بعد میں دنیا بھر میں Brain وائرس کے نام سے مشہور ہوا۔

Brain ایک boot sector virus تھا جو فلاپی ڈسک کے ذریعے پھیلتا تھا اور سسٹم کو نقصان نہیں پہنچاتا تھا۔ اس کا مقصد صرف piracy کا پتہ چلانا اور صارف کو خبردار کرنا تھا۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ وائرس کے اندر امجد اور باسط نے اپنی کمپنی Brain Computer Services کا نام، فون نمبر اور مکمل پتہ لکھ دیا تھا، تاکہ متاثرہ لوگ اُن سے رابطہ کر کے اصل سافٹ ویئر خرید سکیں۔

مگر یہ تجربہ عالمی سطح پر غیر متوقع طور پر مشہور ہو گیا۔ چند ہی مہینوں میں Brain وائرس امریکہ، یورپ اور مشرقِ بعید تک پہنچ گیا، اور یوں پاکستان سے بننے والا piracy-detection کوڈ دنیا کے پہلے بڑے PC وائرس کے طور پر تاریخ میں درج ہو گیا۔

لاہور سے پوری دنیا تک - برین کیسے پھیلا؟

برین وائرس نے لاہور میں اپنے ابتدائی تجربات کے بعد بہت جلد عالمی سطح پر شہرت حاصل کر لی۔ اس وقت انٹرنیٹ اتنا وسیع نہیں تھا، لیکن فلاپی ڈسکس عالمی کمپیوٹر صارفین کے لیے بنیادی ڈیٹا ٹرانسفر کا ذریعہ تھیں۔ Brain اسی راستے سے منتقل ہوا — ہر متاثرہ ڈسک خود کو کاپی کر کے دوسرے کمپیوٹرز میں داخل ہو جاتی، اور یوں وائرس اپنے آپ کو کئی ممالک تک پھیلا دیتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ Brain وائرس نے نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی تھی، بلکہ صرف ڈسک کے boot sector کو متاثر کر کے اپنا وجود ظاہر کرتا تھا۔ اس کے ساتھ کوڈ میں شامل کمپنی کا پتہ اور فون نمبر لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا تھا کہ یہ وائرس محض ایک تجربہ ہے اور اسے ہینڈل کیا جا سکتا ہے۔

چند سالوں میں Brain وائرس نے امریکہ، یورپ اور ایشیا کے کمپیوٹرز کو متاثر کیا، اور یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان میں پیدا ہونے والا یہ چھوٹا سا تجربہ عالمی سطح پر اثر ڈال سکتا ہے۔ یہی واقعہ کمپیوٹر سیکیورٹی کے لیے ایک نئے دور کا آغاز تھا، اور دنیا نے پہلی بار یہ محسوس کیا کہ وائرس صرف تکنیکی خطرہ نہیں، بلکہ ایک عالمی phenomenon بن سکتے ہیں۔

دنیا کا بدنام ترین ہیکر کیون مِٹنک — جرم، گرفتاری اور انجام

سنہ 1980 کی دہائی میں جب دنیا ابھی کمپیوٹرز کو سمجھ رہی تھی، کیون مٹنک اس فن میں مہارت حاصل کر چکا تھا۔ اس کی اصل طاقت ہیکنگ نہیں بلکہ انسانوں کو manipulate کرنا تھی۔ وہ فون کال پر خود کو کمپنی کا ملازم، سیکیورٹی آفیسر یا انجینئر ظاہر کرتا اور لوگوں سے پاس ورڈ، سسٹم کی کنفگریشن اور حساس معلومات نکلوا لیتا تھا۔ اسے دنیا کا پہلا ماسٹر social engineer کہا جاتا ہے۔

مٹنک نے Los Angeles کے ٹیلی فون نیٹ ورک سے شروعات کی، جہاں وہ کالز reroute کر سکتا تھا، لوگوں کے فون بند کر سکتا تھا اور یہاں تک کہ پولیس کے ریڈیو سسٹمز بھی سن لیتا تھا۔ چند سال بعد اس نے بڑے کارپوریٹ نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا شروع کیا — موٹرولا کا سورس کوڈ، نوکیا کے آپریشنل سسٹمز، Sun Microsystems کے سرورز اس کے ہاتھ لگ چکے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ زیادہ تر نقصان نہیں پہنچاتا تھا — وہ چوری کیے ہوئے کوڈ کو سمجھنے اور اپنی صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کرتا تھا، مگر قانون کے نزدیک یہ سنگین جرم تھا۔

ایف بی آئی برسوں تک اسے پکڑنے کی کوشش کرتی رہی۔ وہ بار بار شہر، فون نمبر اور شناخت بدل لیتا، falsified IDs استعمال کرتا، اور اپنی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے مختلف کمپنیوں کے نیٹ ورکس کے پیچھے چھپ جاتا۔ اس کی گرفتاری کی کہانی تقریباً فلم جیسی ہے — 1995 میں آخرکار کمپیوٹر سیکیورٹی ایکسپرٹ نے اس کے ڈیجیٹل footprint ٹریس کیے، جس کے بعد ایف بی آئی نے ایک ہوٹل کے کمرے پر چھاپہ مار کر

اسے گرفتار کر لیا۔

اسے 5 سال قید کی سزا سنائی گئی، جس میں سے تقریباً آٹھ مہینے اسے "solitary confinement" میں بھی رکھا گیا کیونکہ حکومت کو خدشہ تھا کہ وہ جیل کے فون سے بھی خطرناک نیٹ ورک ہیک کر سکتا ہے۔

رہائی کے بعد اس نے اپنی زندگی مکمل طور پر بدل ڈالی۔ وہ ایک سیکیورٹی کنسلٹنٹ، لیکچرر اور مصنف بن گیا۔ اس کی کتاب Ghost in the Wires آج بھی دنیا کے ٹاپ ہیکنگ میمائرز میں شمار ہوتی ہے۔ کیون مٹنک 2023 میں دنیا چھوڑ گیا، مگر اسے ہمیشہ اس شخص کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے ہیکنگ کی تعریف ہی بدل دی — وہ ایک مجرم بھی تھا اور ایک لیجنڈ بھی۔

آج کے وائرس کی طاقت اور کیا انٹی وائرس کافی ہے؟

آج کے کمپیوٹر وائرس Brain یا Creeper کے دور سے کئی گنا طاقتور اور پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ اب وہ صرف boot sector یا چھوٹے پروگرام تک محدود نہیں رہے، بلکہ ransomware، trojans، worms، spyware اور AI-driven malware کی شکل میں دنیا بھر کے نیٹ ورکز اور ڈیٹا کو ہدف بناتے ہیں۔ یہ وائرس نہ صرف کمپیوٹر سسٹمز کو متاثر کرتے ہیں بلکہ مالی نقصان، ذاتی ڈیٹا کی چوری، اور حتیٰ کہ صنعتی نظاموں میں خلل بھی ڈال سکتے ہیں۔

اس صورت حال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا روایتی انٹی وائرس اب بھی کافی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ روایتی اینٹی وائرس محدود حد تک ہی تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔ وہ صرف پہلے سے معلوم وائرس کو پہچان سکتے ہیں، جبکہ جدید malware اکثر خود کو چھپانے، خود کو mutate کرنے، یا نئے حملوں کے لیے adapt کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے اب سائبر سیکیورٹی میں multi-layered approach ضروری ہے: اینٹی وائرس کے ساتھ صارف کی محتاط عادات بھی لازمی ہیں۔

مستقبل کی جنگ: انسان بمقابلہ مشین، یا کوڈ بمقابلہ کوڈ

جیسے جیسے کمپیوٹر وائرس کی تاریخ آگے بڑھتی گئی، ایک واضح حقیقت سامنے آئی: مستقبل میں خطرہ صرف خراب کوڈ یا خراب پروگرامر کا نہیں، بلکہ ایک مسلسل اور تیز رفتار ڈیجیٹل جنگ ہے۔ آج کے جدید وائرس نہ صرف تیزی سے خود کو replicate کرتے ہیں بلکہ AI اور machine learning کے ذریعے خود کو بہتر، چھپانے والے اور نئے ماحول کے مطابق ڈھالنے والے بھی بن گئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مستقبل کی جنگ انسان بمقابلہ مشین نہیں، بلکہ کوڈ بمقابلہ کوڈ کی ہوگی، جہاں ہر لائن پروگرامنگ کی قیمت لاکھوں یا کروڑوں ڈالر میں لگ سکتی ہے۔

انسان کو اپنے اقدامات اور فیصلوں میں انتہائی محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ اب ہر غلطی، ہر ناواقف لنک یا ہر چھوٹا سا exploit پوری دنیا میں بڑے اثرات ڈال سکتا ہے۔ یہ جنگ صرف ڈیٹا یا مشین کا نہیں، بلکہ اعتماد، معلومات، اور حکمت عملی کی بھی ہوگی۔ اسی لیے کمپیوٹر سیکیورٹی کی دنیا میں Brain سے لے کر آج کے AI-driven malware تک کی کہانی ایک مسلسل سبق ہے: ہر نسل کے وائرس نے انسانوں کو چیلنج دیا، اور ہر چیلنج نے ہمیں بہتر بنانے کا موقع فراہم کیا۔

یہی وہ کلاسیک اور حتمی پیغام ہے جو یہ پورا کالم دیتی ہے — کہ ڈیجیٹل دنیا میں امن اور خطرہ ہمیشہ ایک ہی وقت میں موجود ہیں، اور آگاہی ہی سب سے بڑی دفاعی طاقت ہے۔